ایران میں دہشت گردانہ حملہ کا مقصد مسلکی انتشار کو ہوا دینا : مولانا ارشد مدنی

Jun 08, 2017 07:26 PM IST | Updated on: Jun 08, 2017 07:26 PM IST

نئی دہلی : جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی نے گذشتہ روز ایرانی پارلیمنٹ اور آیت اللہ خمینی کے مزار پر ممنوعہ دہشت گرد تنظیم داعش کے ذریعے خود کش حملہ کی سخت مذمت کی ہے ۔ مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ بے قصور افراد کو قتل کرنا انتہائی تکلیف دہ ہے اور اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے ۔ خاص طور سے ان حالات میں جب ارباب اقتدار کونشانہ بنایا جانے لگے تو یہ اور بھی زیادہ تشویشناک ہے۔دہشت گردی کوکسی بھی شکل اور صورت میں ہر گز قبول نہیں کیا جا سکتا ۔مولانا مدنی نے کہا کہ ایران میں دہشت گردانہ حملہ کی ذمہ داری قبول کر کے دہشت گرد تنظیم داعش نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ اپنے آقا اسرائیل کے اشارے پر دنیا میں امن و امان کو برباد کر دینے پرآمادہ ہے ۔

مولانا مدنی نے کہا کہ داعش یہودیوں کی بنائی ہوئی تنظیم ہے جو نہ صرف مسلم ممالک میں تباہی و بربادی پھیلارہی ہے بلکہ ابھی حال ہی میں برطانیہ کے لندن , مانچسٹر اور اس سے پہلے فرانس اورجرمنی کے امن و امان کو تباہ کرنے اور وہاں مسلمانوں کے خلاف ماحول پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ۔مولانا مدنی نے کہا کہ اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ عالم اسلام اور عربوں کا سب سے بڑا دشمن اسرائیل ہے ۔ ایران کی حالیہ واردات بھی اسرائیل کے ذریعے عالم اسلام میں مسلک کے نام پر تفرقہ اور انتشار برپا کرنے کی ناپاک سازِش کا ہی حصہ ہے۔اس کا ایک ثبوت یہ ہے کہ داعش کی اب تک کی حرکات سے مسلم ممالک اور مسلمانوں کو ہی نقصان پہنچ رہا ہے ، حد تو یہ ہے کہ اس نے عالم اسلام کے سب سے اہم ملک سعودی عرب کو بھی اپنی دہشت گردانا کارروائیوں سے نہیں بخشاجبکہ داعش نے آج تک اسلام دشمن طاقتوں اور اسرائیلی مفادات کو نشانہ نہیں بنایا ۔

ایران میں دہشت گردانہ حملہ کا مقصد مسلکی انتشار کو ہوا دینا : مولانا ارشد مدنی

فائل فوٹو

انہوں نے کہا کہ اگر داعش اتنی ہی اسلام پسند تنظیم ہوتی تو اسے فلسطینیوں کے دوش بدوش کھڑے ہو کر اسرائیلی دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑنی چاہئے تھی نہ کہ مسلم ممالک کو ہی نشانہ بنا کر مسلمانوں کا خون نا حق بہایا جاتا۔مولانا مدنی نے عالم اسلام سے اپنی صفوں میں اتحاد قائم رکھنے کی اپیل کی ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز