پیغمبر اسلام کی یوم ولادت 9 ربیع الاول ، لیکن جشن میلاد منانے کی اسلام میں اجازت نہیں : مولانا محمد رحمانی مدنی

Dec 01, 2017 10:39 PM IST | Updated on: Dec 01, 2017 10:39 PM IST

نئی دہلی : آنے والے ہفتہ میں ہمارے سامنے دو اہم حادثات انتہائی عبرت ناک اور تشویشناک ہیں۔ 12 ربیع الأول کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا حادثہ عالم اسلام کا سب سے بڑا حادثہ تھا۔ صحابۂ کرام حواس باختہ تھے ، اللہ کے رسول کی وفات سے پہلے ایسی کیفیت تھی کہ نہ اٹھ بیٹھ سکتے تھے اور نہ چل سکتے تھے، آپ کو مسجد تک بھی کندھوں کا سہارا دے کر لایا جاتا تھا،بیماری میں کمزوری کا یہ عالم تھا کہ گفتگو کرنا بھی مشکل ہوگیا تھا،مسواک بھی چبا کر دیا جاتا تھا، بخار کی ایسی شدت تھی کہ بیٹھتے تو عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی پیٹھ پر سہارا لے کر بیٹھتے، ایسی کیفیت میں بھی آپ نے امت اسلامیہ کو عورتوں اور غلاموں کے ساتھ بہتر سلوک کی وصیت فرمائی، نماز کی پابندی پر ابھاتے رہے، اور قبر پرستی نیز قبروں پر سجدہ کرنے والے یہود ونصاری پر لعنت بھیجتے رہے۔

ان خیالات کا اظہار ابوالکلام آزاد اسلامک اویکننگ سنٹر،نئی دہلی کے صدر جناب مولانا محمد رحمانی سنابلی مدنی نے سنٹر کی جامع مسجد ابوبکر صدیق، جوگابائی میں خطبۂ جمعہ کے دوران کیا۔مولانا جشن عیدمیلاد اور بابری مسجد کی شہادت پر گزرے ۲۵؍برس کے موضوع پر خطاب فرمارہے تھے۔

پیغمبر اسلام کی یوم ولادت 9 ربیع الاول ، لیکن جشن میلاد منانے کی اسلام میں اجازت نہیں :  مولانا محمد رحمانی مدنی

مولانا محمد رحمانی مدنی: فائل فوٹو۔

انہوں نے مزید کہا کہ پیغمبر اسلام نے وصیت فرمائی کہ میری قبر پر بھیڑ مت لگانا اور نہ اسے عید بنانا۔لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ آج بعض مسلمان ۱۲؍ربیع الأول کو عید میلاد کے نام پر جشن مناتے ہیں اور بہت سی غیر اسلامی چیزوں کو انجام دیتے ہیں۔جب کہ نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی نبی کی پیدائش کا دن منایا اور نہ صحابۂ کرام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش کا دن منایا اور نہ ہی علماء وفقہاء عظام نے ایسا کچھ کیا ۔ اس غیر شرعی عمل کی ابتداء امام سیوطی رحمہ اللہ اور دوسرے بہت سے علماء کی تحقیق کے مطابق اربل کے بادشاہ مظفر ابوسعید نے ۶۲۵ھ میں کی اور اس دن جشن کا اہتمام کرکے ناچ گانے اور بہت سے غیر اسلامی رسوم ورواج کو بڑھاوا دیا۔اس عمل کے جواز کا اسے جس شخص نے فتوی دیا تھا وہ ابوالخطاب نامی آدمی تھا جو علماء اسلام کی نظر میں کذاب اور ناقابل اعتبار نیز غیر صحیح النسب انسان تھا۔اور آنے والے ایام کا دوسرا بڑا حادثہ ۶؍دسمبر کو بابری مسجد کی ۲۵ویں برسی ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز