نوٹ بندی آزاد ہندوستان کی تاریخ میں سیاہ باب، لوگوں کے لئے بھلا پانا ناممکن: مایاوتی

Jan 03, 2017 03:49 PM IST | Updated on: Jan 03, 2017 03:49 PM IST

نئی دہلی۔ بی ایس پی سپریمو مایاوتی نے آج ایک بار پھر نوٹ بندی کو لے کر پی ایم نریندر مودی پر نشانہ سادھا۔ مایاوتی نے لکھنؤ میں پریس کانفرنس کر کہا کہ میں یہ دعا کرتی ہوں کہ نیا سال 2016 کی طرح ملک کے عوام کے لئے نوٹ بندی جیسی مصیبت نہ لائے۔ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت متوسط ​​طبقہ، ایماندار لوگوں، کسان اور غریبوں کے لئے لعنت ثابت ہو رہی ہے۔

بی ایس پی کی سربراہ نے کہا کہ مودی حکومت نے ملک میں کالا دھن اور بدعنوانی پر لگام لگانے کے نام پراپنی الیکشن کی وعدہ خلافی سے توجہ ہٹانے کے لئے نوٹ بندی کا فیصلہ لیا ہے۔ اس سے ملک بھر کے 90 فیصد لوگوں نے پریشانی جھیلی ہے۔ اسے آزاد ہندوستان کی تاریخ میں ایسا سیاہ باب کے طور پر ریکارڈ کیا جائے گا جسے لوگوں کے لئے بھلا پانا ناممکن ہے۔ نوٹ بندی کا فیصلہ بہت احمقانہ ہے اور بغیر تیاری کے یہ فیصلہ لیا گیا ہے۔ اس فیصلے سے ملک کے سینکڑوں لوگوں کو اپنی جان گنوانی پڑی ہے۔

نوٹ بندی آزاد ہندوستان کی تاریخ میں سیاہ باب، لوگوں کے لئے بھلا پانا ناممکن: مایاوتی

گیٹی امیجیز

مایاوتی نے کہا کہ نئے سال میں بھی اچھے دن آنے کے اشارے نہیں دکھائی دے رہے ہیں۔ ہماری یہی دعا ہے کہ اس نئے سال میں پی ایم مودی اور ان کی حکومت کو کچھ شعور آ جائے۔ مرکزی حکومت کو نئے سال میں ایسا انتظام کرنا چاہئے جس سے ملک کے عوام کو اپنی کمائی کے پیسے کے لئے ہی لاچار نہ ہونا پڑے اور انہیں طویل قطار میں نہ لگنا پڑے۔ ایک ایسا نظام قائم کیا جانا چاہئے جس سے ملک کے عوام اپنی کمائی کا پیسہ نکالنے کے لئے پریشان نہ ہوں۔

بی ایس پی کی سربراہ نے کہا کہ مودی جی کے 31 دسمبر کے خطاب سے ایسا بالکل نہیں لگتا کہ وہ کچھ اچھا ملک کے لئے کرنے والے ہیں۔ ملک کے کسان جو سوچ رہے تھے کہ پی ایم کچھ قرض معافی کا اعلان کریں گے، غریب سوچ رہے تھے کہ پی ایم ملک میں جمع کالے دھن سے 15-20 لاکھ غریبوں کے اکاؤنٹ میں دیں گے۔ ان سب كو مایوسی ہی ہوئی۔ اس کے علاوہ لکھنؤ کی ریلی میں وزیر اعظم مودی نے جو بھی کہا وہ گھما-پھرا کر اپنی لوک سبھا کی وعدہ خلافی سے توجہ بٹانے کے لئے ان کی کوشش تھی۔ ان کی ریلی میں بھاڑے کے لوگ بلائے گئے تھے اور بھیڑ نہیں جٹ پائی۔

جو بھی اعلانات انہوں نے 31 دسمبر کو کئے، وہ صرف خانہ پری ہی ہیں۔ اگر یہ درست میں عوام کی بھلائی کے لئے ہوتی تو یہ پہلے ہی انہیں لاگو کرتے، نہ کہ اسمبلی انتخابات سے پہلے۔ یہی کام کئی سال پہلے تک کانگریس بھی کرتی تھی اور عوام کو گمراہ کرتی تھی۔ مرکز میں بی جے پی کی حکومت کا آدھا وقت گزر چکا ہے لیکن اب تک صرف سنگ بنیاد ہی کر پائی ہے، اس سے زیادہ کچھ نہیں۔

مایاوتی نے کہا کہ دلتوں کے ووٹ یوپی کی تمام 403 اسمبلی سیٹوں پر ہیں اور کہیں بھی کم نہیں ہیں۔ مسلم اکثریت والے علاقوں میں صرف مسلم اور دلتوں کا ووٹ ملنے سے ہی بی ایس پی جیت جائے گی۔ اس لئے مسلم معاشرے کے لوگ اپنا ووٹ ایس پی کے دونوں خیموں کو دے کر نہ تقسیم کریں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز