بی ایس پی سپریمو مایا وتی کا پلٹ وار ، امت شاہ سے بڑا کوئی بھی قصاب نہیں ہو سکتا

اپنے ملک میں امت شاہ سے بڑا کوئی بھی قصاب نہیں ہو سکتا ہے ، یعنی دہشت گرد نہیں ہو سکتا ہے۔ مایاوتی نے کہا کہ امت شاہ نے بدھ کو قصاب والی بات کہہ کر ثابت کر دیا کہ بی جے پی لیڈر کی سوچ کتنی ناقص ہے

Feb 23, 2017 08:51 PM IST | Updated on: Feb 23, 2017 08:51 PM IST

امبیڈکر نگر / بہرائچ: بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) صدر مایاوتی نے بی جے پی کے صدر امت شاہ کے متنازع بیان پر شدید رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ شاہ سے بڑا قصاب نہیں ہو سکتا۔امت شاہ نے بدھ کو ہی قصاب لفظ کا استعمال اپنے خطاب میں کرتے ہوئے کہا تھا کہ 'ک سے کانگریس، 'س سے ایس پی اور 'ب سے بی ایس پی۔ اس کے جواب میں مایاوتی نے شاہ کا موازنہ قصاب سے کر دیا۔انہوں نے یہاں ایک انتخابی ریلی میں کہا کہ اپنے ملک میں امت شاہ سے بڑا کوئی بھی قصاب نہیں ہو سکتا ہے ، یعنی دہشت گرد نہیں ہو سکتا ہے۔ مایاوتی نے کہا کہ امت شاہ نے بدھ کو قصاب والی بات کہہ کر ثابت کر دیا کہ بی جے پی لیڈر کی سوچ کتنی ناقص ہے۔

مایاوتی نے مودی حکومت پر نشانہ لگاتے ہوئے کہا کہ نوٹ بندي کا فیصلہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے اپنے سیاسی مفاد کے لئے کیا، اس سے غریب، کسان اور مزدور بے حال ہیں ۔ محترمہ مایاوتی نے آج امبیڈکر نگر اور بہرائچ میں انتخابی عوامی جلسوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نوٹ بندي سے کسان، مزدور اور غریب پریشان ہیں۔ بی جے پی نے یہ فیصلہ اپنے سیاسی مفاد کے لئے ہی کیا۔ انہوں نے غریبوں کی گاڑھی کمائی بینکوں میں جمع کرا دی۔ اس رقم سے ملک کے کچھ امیروں کو فائدہ پہنچایا گیا۔

بی ایس پی سپریمو مایا وتی کا پلٹ وار ، امت شاہ سے بڑا کوئی بھی قصاب نہیں ہو سکتا

بی ایس پی صدر نے کہا کہ مودی حکومت کا نوٹ بندي کا فیصلہ بغیر تیاری کئے ایک غیر دوراندیشی کا فیصلہ تھا جس سے ملک کا غریب، کسان اور مزدور آج بھی بے حال ہے۔اس فیصلے سے جہاں غریبوں کی روزی چھن گئی وہیں کسان اپنے کھیتوں کی بوائی نہیں کر پائے۔ محترمہ مایاوتی نے کہا کہ جو حکومت ملک کے دارالحکومت دہلی کو نہیں سنبھال پا رہی ہے وہ بھلا بدحال اتر پردیش کس طرح سنبھال پائے گی۔ سیاسی مفاد کے لیے بی جے پی نے ملک میں کالے دھن پر روک لگانے کی آڑ میں 90 فیصد غریب عوام کو لائن میں کھڑا کرکے اس روزی روٹی چھین لی۔

بی ایس پی صدر نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے نوٹ بندي کے فیصلے کے دس ماہ پہلے ہی دھننا سیٹھوں کے کالے دھن ٹھکانے لگوا دئے تھے۔ سال 2014 میں ہوئے لوک سبھا انتخابات کے دوران بی جے پی نے ملک کے عوام سے سو دنوں میں کالا دھن واپس لا کر غریبوں کے اکاؤنٹ میں 15 لاکھ روپے ڈالنے کا وعدہ کیا تھا لیکن آج تک ایک بھی روپیہ کسی اکاؤنٹ میں نہیں آیا ہے۔ محترمہ مایاوتی نے کہا کہ جھگڑے کی وجہ سے اقلیتی طبقہ ایس پی۔ کانگریس اتحاد کی طرف نہیں بڑھے گا۔ اقلیتی طبقہ وقت پر بیدار نہ ہوئے تو انہیں پھر سے نقصان اٹھانا پڑے گا۔ نریندر مودی کی حکومت اقلیتوں کو شک کی نظر سے دیکھ رہی ہے۔ملک میں ان کے ساتھ سوتیلا سلوک کیا جا رہا ہے۔یکساں سول کوڈ اور تین طلاق جیسے معاملے میں مودی حکومت دخل اندازی کر رہی ہے۔اقلیتوں کو دہشت گردی، گؤ رکشا، لو جہاد کے نام پر پریشان کیا جا رہا ہے۔

سماج وادی پارٹی (ایس پی) نے ان کی طرف سے شروع کی گئی تمام اسکیموں کو نئے سرے سے شروع کیا ہے۔پنشن کی اسکیم کا نام تبدیل کر دیا، جبکہ میٹرو ریل کی منصوبہ بندی ان کے دور اقتدار کی تھی۔ ایس پی اور مودی حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بی ایس پی کی حکومت بنی تو ریاست میں قانون کا راج ہوگا۔ ایس پی حکومت کے پانچ سال اور مرکز کی مودی حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ریاست کا نقصان ہوا ہے۔ریاست میں ترقیاتی کام ٹھپ پڑے ہیں۔اس سلسلے میں ریاست کے 22 کروڑ عوام میں زبردست غم و غصہ ہے۔ محترمہ مایاوتی نے کہا کہ اتر پردیش میں بی ایس پی حکومت بنانے میں کامیاب تو ہو جاتی ہے تو قانون کا راج ہوگا اور ترقیاتی کاموں میں تیزی آ جائے گی۔ غنڈےبدمعاش جیل میں ہوں گے اور لڑکیاں بے خوف آ جا سکیں گی۔اکھلیش حکومت کی مدت میں ریاست میں قانون کی صورتحال ابتر ہوگئی ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز