راجیہ سبھا میں سہارنپور تشدد پر ہنگامہ، مایاوتی نے دی استعفیٰ کی دھمکی

Jul 18, 2017 01:08 PM IST | Updated on: Jul 18, 2017 02:41 PM IST

نئی دہلی۔ بہوجن سماج پارٹی کی سربراہ مایاوتی نے راجیہ سبھا میں دلتوں کا معاملہ نہ اٹھانے دیئے جانے کی وجہ سے احتجاجاً ایوان کی رکنیت چھوڑنے کا اعلان کردیا ۔ راجیہ سبھا میں وقفہ صفر کے دوران اپنی بات نہ رکھنے دینے سے مشتعل مایاوتی نے ایوان سے باہر نکلنے کے بعد اخباری نمائندوں سے کہا ’’ میں نے تحریک التوا کے تحت نوٹس دیا تھا جس میں بولنے کے لئے تین منٹ کی کوئی حد نہیں ہوتی ۔ جب میں نے سہارن پور ضلع کے شبیر پور گاؤں کا معاملہ اٹھانے کی کوشش کی تو حکمراں پارٹی کےارکان کھڑے ہوکر ہنگامہ کرنے لگے اور مجھے بولنے نہیں دیا گیا۔ اگر میں دلتوں اور محروموں کا معاملہ ایوان میں نہیں اٹھا سکتی تو میرا راجیہ سبھا میں آنے کا کیا فائدہ۔ اس لئے میں نے استعفی دینے کا فیصلہ کیا ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وہ آج ہی اپنا استعفی سونپ دیں گی۔

محترمہ مایاوتی نے الزام لگایا کہ جب سے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت اقتدار میں آئی ہے پورے ملک میں دلتوں، پسماندہ، مسلمانوں، عیسائیوں، کسانوں، مزدوروں اور مڈل کلاس کا استحصال ہورہا ہے۔ آندھراپردیش میں روہت ویمولا معاملہ اور گجرات میں اونا معاملہ ہوا۔ اترپردیش میں بی جے پی حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد سے دلتوں پر مسلسل کبھی گؤرکشا کے نام پر تو کبھی کسی دیگر بہانے سے حملے ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شبیر پور میں انتظامیہ کے حکام کی موجودگی میں دلتوں کا استحصال کیا گیا۔ ان کے 60 سے 70گھر جلا دےئے گئے، ماؤں بہنوں کا استحصال کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پہلے انہیں ہیلی کاپٹر سے وہاں جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ سڑک راستے سے جانے پر بھی جگہ جگہ ان کے لئے دقتیں پیدا کی گئیں۔ ان کے زیڈ پلس سیکورٹی ہونے کے باوجود انہیں سیکورٹی فراہم نہیں کی گئی۔

راجیہ سبھا میں سہارنپور تشدد پر ہنگامہ، مایاوتی نے دی استعفیٰ کی دھمکی

بی ایس پی سپریمو نے کہا کہ انہوں نے وہاں کسی طرح کی اشتعال انگیز بات نہیں کی۔ میں نے لوگوں سے بھائی چارہ سے رہنے کی اپیل کی جو حکومت کو اچھی نہیں لگی۔

محترمہ مایاوتی نے الزام لگایا کہ جن لوگوں کے گھر جل گئے تھے اور زخمی ہوئے تھے انہیں مالی مدد کے لئے ڈرافٹ دینے سے بھی ضلع مجسٹریٹ اور سینئر پولیس سپرنٹنڈنٹ نے انہیں منع کردیا۔ حالانکہ پندرہ سولہ دن بعد انہیں مالی مدد کی اجازت دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ پوری ریاست میں امن وقانون انتظامات کا برا حال ہے ۔ کوئی بھی محفوظ نہیں ہے دلتوں کو خصوصی طورپر نشانہ بنایا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی حکومت کے رہتے، ایسے ہاوس میں جہاں مجھے بولنے ہی نہیں دیا جارہا ہے ، میرے آنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ رکن پارلیمان دبے کچلے لوگوں کے امور اٹھانے کے لئے ہیں۔ خود بابا صاحب امبیڈکر کو بھی ہندو کوڈ ایکٹ رکھنے نہیں دیا گیا تھا اور انہیں بھی وزیر قانون کے عہدہ سے استعفی دینا پڑا تھا اور پھر میڈیا میں آکر اپنے استعفی کی وجہ بتانی پڑی تھی۔ ان کی پیروکار ہونے کی وجہ سے میں نے بھی استعفی دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ خیال رہے کہ محترمہ مایاوتی کی راجیہ سبھا کی چھ برس کی مدت کار مارچ 2018میں ختم ہورہی ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز