ایم سی ڈی الیکشن : 54 فیصد پولنگ ، ایگزٹ پولس میں بی جے پی آگے ، کیجریوال نے لگائے سنگین الزامات

Apr 23, 2017 01:41 PM IST | Updated on: Apr 23, 2017 09:15 PM IST

نئی دہلی: دہلی کے تینوں شہر کارپوریشنز کے پولنگ ختم ہوگئی ہے۔ ایگزٹ پول میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی)کی واضح برتری کے ساتھ مسلسل تیسری باراس کے قابض ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ عام آدمی پارٹی (آپ) کے دوسرے اور کانگریس کے تیسرے نمبر پر رہنے کا اندازہ لگایا گیاہے۔

تینوں کارپوریشنوں کے 270 وارڈوں کے لئے آج پولنگ ہوئی جن کے نتیجے26 اپریل کو آئیں گے۔ دو وارڈوں میں امیدوار کی موت کی وجہ سے پولنگ نہیں ہوئی۔ پولنگ کے اختتام کے بعد انڈیا ٹوڈے ایکسس کے ایگزٹ پول میں بی جے پی کو 202 سے 220 سیٹیں ملنے کا اندازہ لگایا گیا ہے۔ دہلی میں قابض آپ کو صرف 23 سے 35 نشستیں ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ کانگریس کو 19 سے 21 اور دیگر کو دو سے آٹھ وارڈوں پر جیت ملنے کا اندازہ لگایا گیا ہے۔

ایم سی ڈی الیکشن : 54 فیصد پولنگ ، ایگزٹ پولس میں بی جے پی آگے ، کیجریوال نے لگائے سنگین الزامات

دہلی میں کارپوریشنز کے انتخابات میں آپ کے اترنے سے پہلی بار سہ رخی مقابلہ ہونے کا امکان ہے۔ یہ انتخابات بی جے پی، کانگریس اور آپ تینوں کے لیے ہی ساکھ کا سوال ہے۔ بی جے پی دس سال تک کارپوریشنز پر قابض رہی لیکن اس بار اس نے اپنے کسی موجودہ کونسلر یا اس کے رشتہ دار کو ٹکٹ نہیں دیا۔پارٹی وزیر اعظم نریندر مودی کی مقبولیت کے بوتے مسلسل تیسری بار کارپوریشنز کی کشتی پار لگانے کی امید لگائے ہوئے ہے۔

اے بی پی نیوز کے ایگزٹ پول میں بی جے پی کی کل 228 وارڈوں پر فتح کا اندازہ لگایا گیا ہے۔ پول میں جنوبی کارپوریشن میں بی جے پی کو 83، آپ کو 09 اور کانگریس کو 09، دیگر تین وارڈوں پر فتح ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ شمالی کارپوریشن میں بی جے پی کو 88، آپ کو چھ اور کانگریس کو سات سیٹوں پر جیت کا اندازہ لگایا گیا ہے۔ دیگر تین وارڈوں پر جیت کا اندازہ ہے۔ مشرقی دہلی میں بی جے پی 47، آپ 09، کانگریس 06 اور دیگر کو دو وارڈوں پر جیت کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

سال 2015 میں ہوئے اسمبلی انتخابات میں بھاری اکثریت حاصل کرنے کے بعد آپ کو حال ہی میں پنجاب اور گوا اسمبلی انتخابات میں مایوسی ہاتھ لگی ہے۔ پارٹی حال میں ہی راجوري گارڈن اسمبلی ضمنی انتخابات میں اپنے امیدوار کی ضمانت بچانے میں بھی کامیاب نہیں ہوئی تھی۔ گزشتہ دو سال کے اروند کیجریوال حکومت کے کام کاج کو ایشو بنا کر پارٹی انتخابی میدان میں ہے۔ اگر کارپوریشن انتخابات میں اسے قابل ذکرکامیابی نہیں ملی تو اس کے سیاسی مستقبل کو لے کر سوال اٹھیں گے۔

کانگریس بھی کارپوریشن انتخابات کے ذریعے دارالحکومت میں اپنی کھوئی زمین کی تلاش میں مصروف ہے۔ اگرچہ ووٹنگ سے چند روز پہلے پارٹی کے کئی قدآور لیڈر بی جے پی میں شامل ہو گئے جس سے پارٹی کی توقعات کو جھٹکا لگنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ آپ نے گزشتہ ہفتے انٹرنل سروے جاری کرتے ہوئے دعوی کیا تھا کہ اسے 51.2 فیصد ووٹوں کے ساتھ 218 وارڈوں میں فتح حاصل ہوگی۔ کانگریس نے بھی اپنے اندرونی سروے میں 208 وارڈوں پر فتح کا دعوی کیا ہے۔

کافی سست رہی پولنگ

دہلی میونسپل کارپوریشن کے انتخابات میں کل 54 فیصد ووٹنگ درج کی گئی ہے۔ ووٹنگ کا فیصد سب سے زیادہ مشرقی دہلی میونسپل کارپوریشن میں رہا، جہاں 55 فیصد ووٹ پڑے۔ اس کے بعد شمالی دہلی میونسپل کارپوریشن میں 54، جبکہ جنوبی دہلی میونسپل کارپوریشن میں 50 فیصد ووٹنگ درج کی گئی۔ ریاست الیکشن کمشنر ایس شریواستو نے یہ معلومات دی۔

کیجریوال کا ای وی ایم میں گڑبڑی کا الزام

ادھر دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے کہا ہے کہ پوری دہلی سے ای وی ایم میں ہیرا پھیری کی خبریں آ رہی ہیں۔ ووٹر سلپ ہونے کے باوجود لوگوں کو ووٹ نہیں ڈالنے دیا جا رہا۔ الیکشن کمیشن کیا کر رہا ہے۔

اہم شخصیات نے ڈالے ووٹ

دوپہر بارہ بجے تک ووٹ ڈالنے والے اہم لوگوں میں دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر انل بیجل، وزیر اعلی اروند کیجریوال، نائب وزیر اعلی منیش سسودیا، مرکزی وزیر ہرش وردھن، دہلی کی سابق وزیر اعلی شیلا دکشت بھی شامل ہیں۔ ریاستی کانگریس صدر اجے ماکن نے راجوری گارڈن میں ووٹ دیا۔ گرمی کم ہونے اور اتوار ہونے کے باوجود پولنگ کی رفتار بہت سست ہے۔ اگرچہ کچھ پولنگ اسٹیشنوں پر لمبی قطاریں بھی دیکھی گئیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز