ایم سی ڈی انتخابات 2017 : 50 سیٹوں پر اپنے امیدوار کھڑا کرے گی مجلس اتحاد المسلمین

مہاراشٹر میں حالیہ بلدیاتی انتخابات میں اپنی امید کے مطابق کامیابی حاصل کرنے کے بعد اسد الدین اویسی کی پارٹی آل انڈیا مجلس اتحادالمسلمین اب دہلی میونسپل کارپوریشن کے انتخابات میں بھی قدم رکھنے جا رہی ہے

Mar 26, 2017 01:49 PM IST | Updated on: Mar 26, 2017 01:51 PM IST

نئی دہلی: مہاراشٹر میں حالیہ بلدیاتی انتخابات میں اپنی امید کے مطابق کامیابی حاصل کرنے کے بعد اسد الدین اویسی کی پارٹی آل انڈیا مجلس اتحادالمسلمین اب دہلی میونسپل کارپوریشن کے انتخابات میں بھی قدم رکھنے جا رہی ہے اور وہ 50 ایسی سیٹوں پر اپنے امیدوار کھڑے کر رہی ہے ، جہاں مسلم آبادی زیادہ ہے۔ ایم آئی ایم نے پہلے دہلی کے تینوں کارپوریشنوں کی تمام 272 نشستوں پر اپنے امیدوار اتارنے کا ارادہ کیا تھا، مگر پارٹی کے داخلی سروے کی بنیاد پر اس نے اب صرف 50 سیٹوں پر امیدوار اتارنے کا فیصلہ کیاہے۔

پارٹی کی دہلی یونٹ کے صدر عرفان اللہ خان کے مطابق '' پہلے ہم نے تمام سیٹوں پر امیدوار اتارنے کا فیصلہ کیا تھا، لیکن جب ہم نے سروے کرایا ، تو پتہ چلا کہ ہم 50 سیٹوں پر مضبوط پوزیشن میں ہیں، جس کے بعد ہم نے ان 50 سیٹوں پر مضبوطی کے ساتھ الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ '' اویسی کی پارٹی نے دہلی میونسپل کارپوریشن کے انتخابات میں جن 50 سیٹوں پر اپنے امیدوار اتارنے کا فیصلہ کیا ہے ان میں اوکھلا، سیلم پور، مصطفی آباد ، پرانی دہلی اور سنگم وہار جیسے علاقے شامل ہیں۔ یہ وہ علاقے ہیں جہاں اچھی خاصی تعداد میں مسلم آبادی ہے جسے ہدف بنا کر ایم آئی ایم انتخابات لڑ رہی ہے۔

ایم سی ڈی انتخابات 2017 : 50 سیٹوں پر اپنے امیدوار کھڑا کرے گی مجلس اتحاد المسلمین

اسد الدین اویسی: فائل فوٹو

عرفان اللہ خان نے مزید کہا کہ '' ایسا نہیں ہے کہ ہم صرف مسلم اکثریتی علاقوں میں انتخابات لڑنے جا رہے ہیں، ہم كالكاجي اور بوانا جیسے علاقوں میں بھی الیکشن لڑیں گے ، کیونکہ ہمیں وہاں اچھے امیدوار ملے ہیں اور ہماری تنظیم بھی مضبوط ہے۔ '' غور طلب ہے کہ گزشتہ ماہ مہاراشٹر میں کارپوریشن کے انتخابات میں اویسی کی پارٹی نے اچھا کیا ہے۔ اس نے بی ایم سی میں تین اور شعلہ پور میونسپل کارپوریشن میں پانچ نشستیں جیتیں۔ کہا جا رہا ہے کہ ان کی پارٹی کی وجہ سے کانگریس اور این سی پی جیسی پارٹیوں کو کافی نقصان ہوا۔

مخالف جماعتوں کی جانب سے اویسی کی پارٹی پر سیکولر سیاست کو نقصان پہنچانے سے متعلق الزام لگائے جانے کے بارے میں پوچھے جانے پر عرفان اللہ خان نے کہا کہ ملک میں 'نام نہاد سیکولر جماعتوں کی یہ سیاست بند ہونی چاہئے۔ خان نے کہا کہ '' جب ملائم سنگھ یادو، نتیش کمار یا اروند کیجریوال مسلمانوں کی قیادت کریں ، تو وہ سیکولر سیاست ہے، لیکن اگر اویسی یا ایوب انصاری (پیس پارٹی) مسلم معاشرے کی قیادت کی بات کرے ، تو وہ فرقہ وارانہ سیاست ہو جائے گی۔ مسلمانوں کے نام پر اس طرح کی سیاست بند ہونی چاہئے۔ ایم آئی ایم لیڈر کے مطابق دہلی میونسپل کارپوریشن انتخابات میں ہم کسی کا ووٹ کاٹنے نہیں، بلکہ زیادہ سے زیادہ سیٹیں جیتنے کے لئے اتر رہے ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ ہماری پارٹی دہلی میں مہاراشٹر سے بھی اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرے گی۔

Loading...

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز