میرٹھ میں بڑے گوشت کاروباریوں سے لے کر مزدوری کرنے والے تک سبھی پریشان

شہری آبادی کی مقامی ضرورت کو پورا کرنے والے گوشت کے چھوٹے تاجر جہاں دکانوں کے لائسنس رینیو نہ کیے جانے سے پریشان ہیں

Apr 26, 2017 11:24 PM IST | Updated on: Apr 26, 2017 11:24 PM IST

میرٹھ : شہری آبادی کی مقامی ضرورت کو پورا کرنے والے گوشت کے چھوٹے تاجر جہاں دکانوں کے لائسنس رینیو نہ کیے جانے سے پریشان ہیں ، وہیں بند ہو چکے مقامی ذبح خانوں کے شروع نہ کیے جانے سے بھی اپنے کاروبار اور روزگار کو لیکر بڑے کاروباریوں سے لے کر اس میں مزدوری کرنے سب تشویش میں مبتلا ہیں ۔

مغربی یو پی کے میرٹھ میں مقامی آبادی کے لیے گوشت کی ضرورت نگر نگم کے زیر نگرانی چلنے والے ہاپوڑ روڈ کمیلے سے پوری کی جاتی رہی ہے ۔ سماجوادی حکومت میں دکانوں کے لائسنس رینیو نہ کیے جانے کے باوجود پولیس اورنگر نگم کی آپسی رضامندی سے گوشت تاجروں کا کاروبار جاری تھا ، لیکن ریاست میں نئی حکومت کے آنے کے بعد سے کی جا رہی سختی کا خمیازہ اب چھوٹے گوشت تاجروں اور مذبح کے ذریعہ روزگارحاصل کرنے والوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے ۔ لائسنس کے رینیوول کو لے کر جہاں نگر نگم اب سوالوں کے گھیرے میں ہے، وہیں ماڈرن ذبح خانے کے لئے سرکاری سطح پر اب تک کسی طرح کی پیش رفت کے نہ کیے جانے سے اپنے روزگار کو لے گوشت تاجر پریشان ہیں اور تشویش میں مبتلا ہیں ۔

میرٹھ میں بڑے گوشت کاروباریوں سے لے کر مزدوری کرنے والے تک سبھی پریشان

قریش برادری اور کاروباری تنظیموں سے وابستہ ذمہ داران کا کہنا ہے کہ تاجر گوشت کی تجارت کو لے کر حکومت کی جانب سے جاری کی گئی ہدایات اور گائیڈ لائن کے مطابق کاروبار کرنا چاہتے ہیں ۔ لیکن سب سے پہلے ماڈرن ذبح خانوں کی تعمیر اور گوشت تاجروں کے لائسنس رینیول کو یقینی بنایا جائے ۔

نگر نگم ، محکمہ صحت اور آلودگی کنٹرول بورڈ کی بدعنوانیوں نے گوشت کاروبار کے غیر قانونی طریقوں کو فروغ دینے کا کام کیا ہے ، یہ حقیقت ہے تاہم غیر قانونی آمدنی کے ذرائع کو بند کرکے قانونی طریقہ سے کاروبار کی راہ ہموار کرنا نہ صرف حکومت کی ذمہ داری ہے ، بلکہ اس کاروبار سے روزگار حاصل کرنے والے طبقہ کی ضرورت کا خیال رکھنا بھی حکومت کا اہم فریضہ ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز