یوپی کے مظفر نگر میں میٹ کاروباری اب چائے بیچنے پر مجبور، کسی نے کھولی راشن کی دکان

اترپردیش میں مذبح بند ہونے کے بعد بے روزگار ہوئے گوشت کاروباریوں نے اب دوسرا کام کرنا شروع کر دیا ہے۔

Mar 30, 2017 02:38 PM IST | Updated on: Mar 30, 2017 02:38 PM IST

لکھنئو۔ اترپردیش میں غیر قانونی مذبح کے بند ہونے کے حکم کے بعد سبھی اضلاع کی ضلع انتظامیہ نے اپنے اپنے ضلعوں میں مذبح کو مکمل طور پر بند کرا دیا ہے۔ مذبح بند ہونے کے بعد بے روزگار ہوئے گوشت کاروباریوں نے اب دوسرا کام کرنا شروع کر دیا ہے۔ اسی ضمن میں مظفر نگر میں کچھ گوشت تاجروں نے چائے کی دکان کھول لی ہے تو کسی نے راشن کی دکان میں ہاتھ آزمانا شروع کر دیا ہے۔ سب کا یہی کہنا ہے کہ گوشت کی دکان بند ہونے کے بعد خاندان چلانے کے لئے کچھ کام تو کرنا ضروری تھا ورنہ کھانے کے بھی لالے پڑنے لگے تھے۔ خاص بات یہ ہے کہ کچھ تاجر ایسے بھی ہیں، جنہوں نے الزام لگایا ہے کہ انتظامیہ نے لائسنس ہونے کے بعد بھی ان کی دکان کو بند کرا دیا۔

گوشت تاجر کلیم کہتے ہیں کہ ہماری گوشت کی دکان تھی مارکیٹ میں۔ جب وہ بند ہو گئی تو ہم نے راشن کی دکان کھول لی۔ گوشت کا کاروبار بند ہو گیا تو کیا کرتے۔ یوگی جی نے گوشت کی دوکانیں بند کرا دیں تو بھوکے تھوڑی نہ مرتے۔ لہذا ہم نے اس چیز کی دکان کھول لی۔ ہمارے پاس لائسنس بھی ہے لیکن جب انتظامیہ نے ساری دوکانیں بند کرا دیں تو ہم کیا کرتے۔

یوپی کے مظفر نگر میں میٹ کاروباری اب چائے بیچنے پر مجبور، کسی نے کھولی راشن کی دکان

Loading...

گوشت تاجر نزاکت کہتے ہیں کہ پہلے میٹ کی دکان تھی اور جب سے یوگی حکومت بنی پریشان ہوکر گوشت کا کام بند کرا دیا ہے۔ ابھی چائے کی دکان لے کر بیٹھے ہیں۔ وجہ یہ ہے گوشت کی دوکانیں تو بند ہو گئیں۔ جو روزگار ہے، وہ تو کرنا ہی ہے تو چائے کی دکان کر لی۔ انہوں نے کہا کہ ہم تو بہت دکھی ہو گئے جب سے یہ حکومت بنی روزگار تھا وہ ختم ہو گیا۔ جب سے یوگی حکومت بنی تبھی سے تمام ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھے ہیں، پریشان ہیں۔

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز