غیرمعیاری شاعری سے مشاعروں کی تہذیب اوراہمیت ہو رہی مجروح: ماجد دیوبندی

Oct 28, 2017 09:26 PM IST | Updated on: Oct 28, 2017 09:29 PM IST

 میرٹھ ۔ اردو ادب میں شاعری کو ایک خاص مقام حاصل ہے اوراردو شاعری کے ذریعہ ہی مشاعروں کو بھی مقبولیت حاصل ہوئی ہے ۔ ہندوستان اور پاکستان کےعلاوہ عالمی سطح پرآج مشاعروں کا سلسلہ جاری اور ساری ہے جو اردو زبان وادب کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

لیکن آج کے دور میں غیرمعیاری شاعر اور واہ واہی کے لئے تکبندی شاعری سے نہ صرف مشاعروں کی تہذیب و وقاراوراہمیت مجروح ہو رہی ہے بلکہ اردو زبان اور ادب کے تقدس کو بھی کہیں نہ کہیں نقصان پہنچ رہا ہے ۔ ایسا خیال دور حاضر کے نامور شعرا کا ہے جن کے دل کا درد اس پر گفتگو کے دوران چھلک جاتا ہے ۔

غیرمعیاری شاعری سے مشاعروں کی تہذیب اوراہمیت  ہو رہی مجروح: ماجد دیوبندی

 مشاعروں اور اردو ادبی خدمات کے ذریعہ عالمی سطح پر اپنی ایک خاص پہچان قائم کر چکے معروف اردو شاعر ماجد دیوبندی کے مطابق نہ صرف بر صغیر بلکہ دنیا کے دوسرے  ملکوں  میں مشاعروں کی مقبولیت اردو شاعری اور زبان کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔  اس میں کوئی شک نہیں ہے۔  تاہم غیرمعیاری شاعر اور تکبندی کی شاعری اردو شاعری اور مشاعروں کے تقدس کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ انکا کہنا ہے کہ غیر ظاہری طور پر سہی لیکن مشاعرے اردو زبان اور شاعری کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں اورمشاعروں اور شعری نشستوں کے اسی وقار اور تہذیب کو قائم رکھنے کے لئے معیاری نشستوں کے انعقاد کو فروغ دینے کی ضرورت ہے ۔

ماجد دیوبندی ۔ معروف شاعر اور وائس چیئرمین دلّی اردو اکیڈمی ماجد دیوبندی ۔ معروف شاعر اور وائس چیئرمین دلّی اردو اکیڈمی

معروف شاعر اور نغمہ نگارراحت اندوری کا کہنا ہے کہ آج کے دور میں مشاعروں کے انعقاد کا سلسلہ ادبی شعری نشستوں کے دائرے سے نکل کر سیاسی مشاعروں کے انعقاد تک جا پہنچا ہے،  جن کا مقصد بھیڑ جمع کرنے تک محدود ہوتا ہے ۔ معیاری شاعری کے ذریعہ اردو ادب اور شاعری کی دنیا میں  اپنی خاص شناخت رکھنے والے راحت اندوری مانتے ہیں کہ اردو شاعری کے ذریعہ اردو زبان کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرنے والے مشاعروں میں اچھی اور معیاری شاعری کرنے والے شعراء کو مدعو کیا جانا چاہیے اورشاعروں کو بھی خیال رکھنا چاہیے کہ وہ سطحی مشاعروں میں جانے سے گریز کریں ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز