دنگل گرل زائرہ وسیم تنازعات کی زد میں، سوشل میڈیا میں ٹرول ہونے پر مانگی معافی

فلم دنگل میں پہلوان گیتا پھوگاٹ کے بچپن کا کردار ادا کرنے والی زائرہ وسیم کو لے کر ایک نیا دنگل شروع ہو گیا ہے۔

Jan 17, 2017 12:49 PM IST | Updated on: Jan 17, 2017 12:51 PM IST

نئی دہلی۔ فلم دنگل میں پہلوان گیتا پھوگاٹ کے بچپن کا کردار ادا کرنے والی زائرہ وسیم کو لے کر ایک نیا دنگل شروع ہو گیا ہے۔ اس دنگل کی وجہ زائرہ اور جموں و کشمیر کی وزیر اعلی محبوبہ مفتی کی اس ملاقات کو مانا جا رہا ہے۔ اس ملاقات کے بعد زائرہ علیحدگی پسندوں کے ایسے نشانے پر آ گئیں کہ انہیں کھلا خط جاری کر معافی مانگنی پڑی۔

فیس بک اور ٹویٹر پر لکھے معافی نامہ میں زائرہ نے لکھا کہ یہ ایک کھلا قبول نامہ / معافی نامہ ہے۔ مجھے پتہ ہے کہ حال ہی میں میرے رویے اور میں نے جن لوگوں سے ملاقات کی، اس سے کئی لوگ ناخوش اور دکھی ہوئے ہیں۔ میں ان سب سے معافی مانگنا چاہتی ہوں، جنہیں میں نے نادانستہ طور پر تکلیف پہنچائی ہے اور میں چاہتی ہوں کہ وہ جانیں کہ میں ان کے جذبات کا احترام کرتی ہوں۔

دنگل گرل زائرہ وسیم تنازعات کی زد میں، سوشل میڈیا میں ٹرول ہونے پر مانگی معافی

زائرہ نے یہاں تک کہا کہ وہ نہیں چاہتیں کہ انہیں کوئی اپنا رول ماڈل مانے۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ انہیں اپنے کئے پر کسی طرح کا کوئی فخر نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے کشمیری نوجوانوں کا رول ماڈل بنا کر پیش کیا جا رہا ہے، میں یہ صاف کرنا چاہتی ہوں کہ میں نہیں چاہتی کوئی میرے نقش قدم پر چلے۔ میں جو کر رہی ہوں اس پر مجھے کوئی فخر نہیں ہے۔

زائرہ کو یہ معافی نامہ سوشل میڈیا پر مسلسل مل رہی دھمکیوں کی وجہ سے جاری کرنا پڑا۔ جس کا سلسلہ ان کے محبوبہ مفتی سے ملنے سے شروع ہوا۔ سوشل میڈیا پر زائرہ ہی نہیں بلکہ ان کے خاندان کو بھی بہت برا بھلا کہا گیا۔ زائرہ کا معافی نامہ سامنے آنے کے بعد سیاسی دنیا میں دنگل شروع ہو گیا۔ کشمیر میں بی جے پی نے علیحدگی پسندوں پر حملہ بولا تو نیشنل کانفرنس بھی اس تنازعہ میں کود پڑی۔

زائرہ اور محبوبہ کی ملاقات اور اس پر زائرہ کی معافی سے بھڑکی آگ یہیں نہیں تھمی۔ اس دنگل کی آنچ رہنماؤں سے ہوتی ہوئی سماجی کارکنان تک پہنچی جو زائرہ کے ساتھ کھڑے ہو گئے۔ معاملہ کشمیر سے منسلک تھا اور زائرہ کو دھمکیاں وادی کے علیحدگی پسندوں سے مل رہی تھیں، ایسے میں کشمیر کے نوجوان بھی اس باعزم لڑکی کے ساتھ کھڑے ہو گئے۔ کشمیری نوجوانوں نے کہا کہ جب ایسا ٹیلنٹ سامنے آتا ہے تو ہم انہیں آگے کرنے کی بجائے پیچھے کر دیتے ہیں۔ پہلے بھی ایسا ہوا ہے۔ یہ بہت غلط ہے۔ ہمیں ٹیلنٹ کی ستائش کرنی چاہئے، دل شکنی نہیں کرنی چاہئے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز