کشمیر میں کسی تیسرے ملک کی ثالثی کی ضرورت نہیں، امریکہ اور چین اپنا اپنا کام سنبھالیں: محبوبہ

سری نگر۔ جموں وکشمیر کی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے کشمیر میں تیسرے ملک کی ثالثی سے متعلق نیشنل کانفرنس کے صدر و رکن پارلیمان ڈاکٹر فاروق عبداللہ کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ اور چین اپنا اپنا کام سنبھالیں۔

Jul 23, 2017 08:33 AM IST | Updated on: Jul 23, 2017 08:33 AM IST

سری نگر۔ جموں وکشمیر کی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے کشمیر میں تیسرے ملک کی ثالثی سے متعلق نیشنل کانفرنس کے صدر و رکن پارلیمان ڈاکٹر فاروق عبداللہ کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ اور چین اپنا اپنا کام سنبھالیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ امریکہ نے جس بھی ملک کے معاملات میں ہاتھ ڈالا ہے، وہاں صرف تباہی دیکھنے کو ملی ہے۔ محترمہ مفتی نے ان باتوں کا اظہار ہفتہ کو جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ میں نامہ نگاروں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کیا۔ خیال رہے کہ فاروق عبداللہ نے جمعہ کو نئی دہلی میں پارلیمان کے باہر نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے مرکزی حکومت سے کہا کہ وہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے امریکہ یا چین سے رابطہ قائم کرے۔ وزیر اعلیٰ نے اس بیان کے ردعمل میں کہا ’دیکھئے امریکہ ہو یا چین وہ اپنے کام سنبھالیں۔ ہمیں معلوم ہے کہ جہاں جہاں امریکہ نے ہاتھ ڈالا ، چاہے وہ افغانستان، شام یا عراق ہو (وہاں تباہی دیکھنے کو ملی ہے)۔ چین خود تبت میں الجھا ہوا ہے‘۔

محترمہ مفتی نے کہا کہ ہندوستان اور پاکستان کو کسی تیسرے ملک سے رجوع کرنے کے بجائے باہمی مسائل مل بیٹھ کر حل کرنے چاہیے۔ انہوں نے کہا ’میرا خیال ہے کہ ہمارے پاس ایک نقشہ ہے۔ جنگ کے بعد بھی ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ بات کرنی پڑتی ہے۔ ہمارے پاس لاہور اعلامیہ اور شملہ معاہدہ ہے۔ ہمیں مل بیٹھ کر بات کرنی ہے۔ امریکہ اور انگلستان کیا کرے گا ہمارا‘۔

کشمیر میں کسی تیسرے ملک کی ثالثی کی ضرورت نہیں، امریکہ اور چین اپنا اپنا کام سنبھالیں: محبوبہ

جموں وکشمیر کی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی: فائل فوٹو

وزیر اعلیٰ نے خدشہ ظاہر کیا کہ کسی تیسرے ملک کی مداخلت سے کشمیر کا بھی شام، افغانستان اور عراق جیسا حال ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا ’دنیا میں بڑے بڑے مسائل ہیں۔ شام، افغانستان اور عراق کا حال دیکھئے۔ کیا خدانخواستہ فاروق صاحب بھی چاہتے ہیں کہ ہمارا بھی وہی حال ہو۔ جو ہمارے بزرگ لیڈر رہے ہیں چاہے اندرا جی ہیںیا واجپائی صاحب جنہوں لاہور اور شملہ معاہدے کئے ہیں۔ ہمیں ان معاہدوں کو آگے بڑھانا چاہیے۔ جو ہمارے آپس کے مسئلے ہیں۔ ہر روز سرحد پر فائرنگ ہوتی ہے۔ ہمارے سپاہی مارے جاتے ہیں۔ سرحد کی دوسری جانب بھی عام لوگ مارے جاتے ہیں۔ اس کا کوئی حل نکلنا چاہیے۔ مسائل تبھی حل ہوں گے جب دونوں ممالک کے درمیان ہوئے معاہدوں کی قدر ہوگی۔ آپس میں مل بیٹھ کر غربت کو دور کریں۔ اپنے لوگوں کو بجلی، پانی جیسی بنادی سہولیات فراہم کریں۔ روزگار فراہم کریں‘۔

Loading...

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز