دہلی میٹرو کے کرایہ میں غیر معمولی اضافہ کے فیصلہ کی لوگوں نے کی شدید مخالفت

Oct 01, 2017 07:01 PM IST | Updated on: Oct 01, 2017 07:01 PM IST

نئی دہلی: قومی دارالحکومت علاقہ میں دہلی میٹرو سے روزانہ سفر کرنے والے مسافروں اور عوامی تنظیموں نے کرایہ میں غیر معمولی اضافہ کے فیصلے کی شدید مخالفت کی ہے اور کہا ہے کہ پہلے سے ہی مہنگائی سے پریشان لوگوں پر اور مار پڑے گی اور لوگوں کو سفر کرنا مشکل ہو جائے گا۔ تقریبا چھ ماہ کے اندر درمرتبہ میٹرو کرایہ میں اضافے کے اعلان سے مسافروں میں بہت زیادہ غصہ ہے اور وہ کرایہ میں اضافہ کی پرزور مخالفت کر رہے ہیں۔ اس اضافہ کی وجہ سے مسافروں کی کمر ٹوٹ جائے گی اور فی کس مسافر دس روپے کا اضافہ کرنے سے اوسطا ایک خاندان پر کم از کم 2000 روپئے کا اضافی بوجھ پڑے گا۔

ڈی ایم آر سی کے فیصلے سے ناراض نوئیڈا کے باشندہ اور طالب علم ہاردک اروڑہ نے دہلی میٹرو ریل کارپوریشن کی جانب سے 10 اکتوبر سے کرایہ میں اضافہ کی تجویز کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ایک سال میں دو مرتبہ کرایہ میں اضافہ ہونے جا رہا ہے۔ اس سال مئی میں میٹرو کرایہ میں 60 فیصد سے زیادہ کا اضافہ کیاگیا جس سے اسکول، کالج، دفاتر اور دیگر مقامات پر میٹرو سے سفر کرنے والے مسافر سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔نوئیڈاسے دہلی کالج جانے والے مسٹر اروڑہ نے کہا کہ مئی میں طے کرایہ کا سلیب اتنا زیادہ تھا کہ گھروں کا بجٹ بگڑگیا تھا۔ مہنگائی کی وجہ سے پریشان عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوا۔

دہلی میٹرو کے کرایہ میں غیر معمولی اضافہ کے فیصلہ کی لوگوں نے کی شدید مخالفت

دہلی ریذیڈنٹ فورم کے سکریٹری رتیش دیوان کا کہنا تھا کہ دہلی اور پورے قومی دارالحکومت علاقہ میں میٹرو ریل کے علاوہ اور کوئی بھروسہ مند پبلک ٹرانسپورٹ کا نظام نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سبزیاں، اسکول کی فیس اور ضروری چیزیں پہلے ہی مہنگی ہو چکی هے اور اب کرایہ میں بار بار کا اضافہ ہونے سے لوگوں کی پریشانیاں کتنی بڑھ جائیں گی یہ بتاپانا بھی مشکل ہے۔ انتظامیہ کو کرایہ بڑھانے کے بجائے پبلک ٹرانسپورٹ کے نظام کو بہتر بنانا چاہئے اور اسے مزید سستا کیا جانا چاہئے لیکن اس کے برعکس 6 ماہ میں دوسری مرتبہ کرایہ میں اضافے کا فیصلہ کیا جا رہا ہے جو عوام کی پریشانیوں میں اضافہ کرنے کی طرح ہے۔

دہلی ریذیڈنٹ فورم کے کنوینر ویریندر اروڑہ نے کہا، "دفتر کے اوقات میں ہم میٹرو میں ٹھنس کر سفر کرنے پر مجبور ہیں۔ مجھے اپنے کام کے سلسلے میں آنے اور جانے نیزبچوں کے اسکولوں اور کالجوں میں آمدورفت میں تقریبا 20 فیصد اپنی آمدنی کا حصہ دینا پڑتا ہے۔ اتنے پیسے دینے کے باوجود میں میٹرو میں لوگوں کے بیچ بری طرح پھنس کرجاتا ہوں اور ایسے میں گھر چلانا کتنا مشکل ہے آپ سمجھ سکتے ہیں۔ دہلی میں خواتین کی بہتری کے لئے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم وومین پروگریسیو ایسوسی ایشن کی ریتو بھاٹیہ نے کہا، 'ہم بجلی کے بڑھے ہوئے بل، بچوں کی اسکول فیس اور مہنگائی سے پہلے ہی پریشان ہیں، لہذا میٹرو کے کرایہ میں کسی طرح کا اضافہ نہیں ہونا چاہئے۔

جامع مسجد کی امن کمیٹی کے صدر سید مجیب الرحمن نے کہا، میٹرو کے کرایہ میں اضافہ مکمل طور پر ناقابل قبول ہے۔ کرایہ بڑھنے سے بزرگوں ،معذوروں اور کم آمدنی والے لوگوں اور خاص طور پر مزدوروں یا انتہائی قلیل مشاہرہ پانے والے افراد کافی مشکلات میں گھرِجائیں گے۔انہوں نے کہا کہ پبلک ٹرانسپورٹ پر منحصر رہنے والے لوگوں پر اس کے کافی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز