میوات : منگنی کی رسم اور جہیز پر پابندی ، خلاف ورزی پر حقہ پانی ہوگا بند

Mar 06, 2017 09:49 PM IST | Updated on: Mar 06, 2017 11:58 PM IST

میوات : اگر آپ شادیوں میں جہیز کا مطالبہ کرتے ہیں ،یا پھر اپنے بچوں کی شادی دھوم دھام سے کرنے کا ارادہ بنا رہے ہیں ، تو ذرا سنبھل جائیں۔ کیونکہ اب ایسی شادیوں پر گاوں سطح پر بن رہی گاوں اصلاح کمیٹی کی نظر رہے گی ، جو شادی کرنے والے کنبہ کو پہلے تو سمجھائےگی اور نہ ماننے پر ایسے کنبوں کا نہ صرف حقہ پانی بند کردیا جائے گا ، بلکہ ان کا بائیکاٹ بھی کردیا جائے گا۔ یہ فیصلہ اتوار کو بيسرو روڈ پر واقع مرکز کے سامنے ہوئی مہا پنچایت میں لیا گیا ۔

اسٹار ہریانہ ڈاٹ کام کی ایک خبر کے مطابق مہا پنچایت میں ہریانہ کے علاوہ راجستھان، مدھیہ پردیش، اتر پردیش اور دہلی کی سرکردہ شخصیات نے شرکت کی ۔اس دوران سماجی برائیوں کو ختم کرنے کے لئے درجنوں فیصلے بھی کئے گئے۔ مہا پنچایت کی صدارت مولانا رشید نے کی، اس میں عام عوام کے ساتھ ساتھ مقامی مذہبی علماء، لیڈران، سماجی کارکن، دانشور، ملازم، نوجوان، تاجر، ضلع کونسل، بلاک کمیٹی اور مختلف پنچایتوں کے عہدیدار شامل ہوئے۔

میوات : منگنی کی رسم اور جہیز پر پابندی ، خلاف ورزی پر حقہ پانی ہوگا بند

مہاپنچایت میں جہیز کو سماج کی بڑی برائی قرار دیتے ہوئے اس پر پابندی کے لئے گفتگو کی گئی۔ مہا پنچایت میں آئے تمام لوگوں نے اپنی حمایت کا اظہار کرتے ہوئے شادیوں میں جہیز پر مکمل طور پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا۔مہا پنچایت موجود لوگوں نے کہا کہ جہیز کی وجہ سے نہ جانے کتنے کنبے اجڑ گئے۔ قرض لے کر اپنی لڑکیوں کی شادی کرنے والے خاندان کی پوری زندگی قرض اتارنے میں لگ جاتی ہے۔ مہاپنچایت میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ جلد ہی گاوں سطح پر کمیٹیاں کا قائم کی جائیں گی ، جو ایسی شادیوں پر نظر رکھیں گی۔

مہا پنچايت میں لئے گئے فیصلے:۔

منگنی کی رسم کو ختم کی جائے اور براہ راست نکاح کیا جائے ، کیونکہ اسلام میں منگنی کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔

لڑکی کے سرپرست خود لڑکی کو لڑکے کے گھر چھوڑ کر آئیں۔

بارات بلانے کا رواج ختم کیا جائے ۔ بارات کی جگہ مہمان کہا جائے، جن کی تعداد زیادہ سے زیادہ 10 ہو۔

شادی کا لیٹر نہ بھیجا جائے بلکہ دونوں طرف سے مشورہ کے بعد تاریخ مقرر کی جائے۔

شادی میں مہر کی رقم شریعت میں کم از کم تقریبا ساڑھے تین تولا چاندی بنتی ہے ، جس کی رقم کم از کم تقریبا 2000 روپے بنتی ہے۔مہر کو نقددینے کی کوشش کی جائے۔

شادی میں ماڈھا، جوڈا گھرائي، ٹوپیاں ، پنچایت اور مسجد وغیرہ کا سامان منگوانے کی رسم بند کی جائے۔

آتش بازی اور ڈی جے وغیرہ بالکل بند کیا جائے۔

شریعت کے خلاف جو شادی ہو ، اس میں علما، ليڈران اور قوم کے ذمہ داران شرکت نہ کریں۔

جن لوگوں نے جہیز لے لیا ہے، علماء اور ذمہ دار حضرات خاص طور پر حساب لگا کر جہیز کی قیمت واپس کریں۔

جہیز کے نام کا لفظ ختم کیا جائے اور اس کی جگہ شریعت کی روشنی میں بیٹی کا جو حق بنتا ہے ، اس کو دیا جائے۔

گاؤں کے تمام ذمہ دار لوگوں کا فرض بنتا ہے کہ جن غریبوں کی بیٹیاں بغیر شادی کے گھر بیٹھی ہیں ، ان کی رشتہ کرانے میں مدد کریں۔

جو فیصلہ برادری نے کیا ہے ، اگر کوئی اسے نہیں مانتا ہے تو اسے شریعت کی حد میں روکا جائے گا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز