تین طلاق بل آئین اور خواتین کے حقوق کے خلاف : اسد الدین اویسی

پارلیمنٹ کے لوک سبھا میں آج تین طلاق سے متعلق بل پیش کیا گیا ۔ مرکزی وزیر قانون نے اس بل کو تاریخی قرار دیا جبکہ مجلس اتحاد المسلمین کے لیڈر اور ممبر پارلیمنٹ اسد الدین اویسی نے اس کی شدید مخالفت کی ۔

Dec 28, 2017 07:21 PM IST | Updated on: Dec 28, 2017 07:21 PM IST

نئی دہلی : پارلیمنٹ کے لوک سبھا میں آج تین طلاق سے متعلق بل پیش کیا گیا ۔ مرکزی وزیر قانون نے اس بل کو تاریخی قرار دیا جبکہ مجلس اتحاد المسلمین کے لیڈر اور ممبر پارلیمنٹ اسد الدین اویسی نے اس کی شدید مخالفت کی ۔ اویسی نے کہا کہ تین طلاق سے متعلق بل آئین کے خلاف ہے ۔ یہ خواتین کے حقوق کی خلاف ورزی کرتا ہے۔

لوک سبھا میں مباحثہ میں شرکت کرتے ہوئے اویسی نے حکومت کی منشا پر سوال کھڑا کرتے ہوئے کہا کہ شادی ایک سول کنٹریکٹ ہوتی ہے ، اس بل سے مردوں کو ہی طاقت ملے گی ۔ اس بل کے ذریعہ مسلم مردوں کو شیطان کی شکل میں پیش کیا جارہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وزیر قانون ایک وکیل ہوسکتے ہیں ، لیکن یہ پیتھیٹک لا ڈرافٹ مین ہیں ۔ سول لا اور کریمنل لا کو ایک ساتھ ملا دیا ہے۔ انہوں نے ایوان کو گمراہ کیا ۔ پاکستان میں 61 سپریم کورٹ کے ذریعہ اسٹے کردیا گیا ۔ کسی بھی مسلم ملک میں پینل کوڈ نہیں ہے ۔ اسلام میں شادی سول کنٹریکٹ ہے م آپ اسے بریچ کررہے ہیں اور سزا دے رہے ہیں۔

تین طلاق بل آئین اور خواتین کے حقوق کے خلاف : اسد الدین اویسی

مجلس اتحاد المسلمین سربراہ اسد الدین اویسی ۔ فائل فوٹو

یہاں جو بحث ہورہی ہے اس سے لگتا ہے کہ آپ مسلم سماج کو ڈیمولرائز کررہے ہیں ۔ جہیز کے خلاف قانون ہے ، لیکن 80 فیصدی جہیز کے کیس میں ہندو شامل ہیں ۔ کیا آپ کو اس کی فکر ہے ۔ روی شنکر پرساد نے کہا کہ مساوات کیلئے یہ بل لا رہے ہیں ، لیکن ااپ کے پاس کوئی ایک مسلم ممبر پارلیمنٹ نہیں ہے ۔ وزیر ایک برا قانون لے کر آئے ہیں ۔ کیا آپ سیکشن 84 کو ایکسکلوڈ کررہے ہیں ۔ آپ مسلم خواتین کو انصاف نہیں دلا رہے ہیں بلکہ آپ مسلم مردوں کے ہاتھ میں ہینڈل دے رہے ہیں ۔ آپ چاہتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ مسلمان جیل میں جائیں ۔ اگر آپ کا ارادہ صحیح ہے تو آپ ایک ہزار کروڑ روپے کا کورپس لائیں۔

اویسی نے ایک کہانی کے ذریعہ اپنی تقریر ختم کی ۔ انہوں نے کہا کہ میں نے بچپن میں ایک کہانی سنی تھی کہ ایک سڑک کے کنارے پانی بہہ رہا تھا ، جس میں مچھلیاں تھیں ،وہ انجوائے کررہی تھیں ، تبھی وہاں  ایک بند آگیا اور بندر نے مچھلیوں کو پانی سے نکال کر پتھر پر رکھنا شروع کردیا تو ایک آدمی نے بندر سے پوچھا کہ تم کیا کررہے ہو ، تو اس نے کہا کہ میں مچھلیاں بچا رہا ہوں ۔ آپ بھی وہی کررہے ہیں ۔ آپ بچا نہیں رہے ہیں بلکہ مار رہے ہیں۔

Loading...

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز