میانمار میں پھنسے ہندووں کو لے کر اسدالدین اویسی نے مودی حکومت پر سادھا نشانہ ، کہی یہ تیکھی بات ؟

Sep 13, 2017 10:28 PM IST | Updated on: Sep 13, 2017 10:28 PM IST

نئی دہلی: آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اور ممبر پارلیمنٹ اسدالدین اویسی نے میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کے خلاف جاری تشدد کے دوران 86 ہندووں کی بھی ہلاکت کا حوالہ دیتے ہوئے مودی حکومت پر طنز کیا ہے۔ مسٹر اویسی نے میڈیا میں آئی ان خبروں پر حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا ہے جن میں کہا گیا ہے کہ روہنگیا کے خلاف ہونے والی تشدد کا شکار وہاں کے ہندو وں کو بھی ہونا پڑا ہے اور اس تشدد میں اب تک 86ہندو مارے جاچکے ہیں۔جب کہ 200ہندو خاندانوں کومیانمار میں فوج اور باغی گروپ اراکان روہنگیا سالویشن آرمی کے حملوں سے جان بچانے کے لئے گھر بار چھوڑنا پڑا ہے۔

انہوں نے اس خبر کا لنک شیئر کرتے ہوئے اپنے ٹوئٹ میں امور داخلہ کے وزیر مملکت کرن رجیجو کوٹیگ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ براہ کرم کم سے کم ان دو سو خاندانوں کو تو ہندوستان لے آئیں۔ انہوں نے اس کے بعد سوالیہ نشان لگاتے ہوئے لکھا ہے رحم۔ انہوں نے میڈیا کی ان خبروں کو چسپاں کیا ہے جس میں بتایا گیا ہے میانمار سے بنگلہ دیش آئے ہوئے کئی لوگ تشدد کا شکار ہوئے ہیں۔ جب کہ کہا جارہا ہے کہ گذشتہ دو ہفتوں میں تقریباً تین لاکھ روہنگیا مسلم بنگلہ دیش میں داخل ہوچکے ہیں۔

میانمار میں پھنسے ہندووں کو لے کر اسدالدین اویسی نے مودی حکومت پر سادھا نشانہ ، کہی یہ تیکھی بات ؟

مجلس اتحاد المسلمین سربراہ اسد الدین اویسی

وزارت داخلہ کے مطابق اس وقت ملک میں چالیس ہزار سے زیادہ روہنگیا مسلم پناہ گزین موجود ہیں ان میں سے صرف چودہ ہزار کے پاس ہی اقوام متحدہ کمیشن برائے پناہ گزین کے دستاویزات ہیں۔ حکومت نے قومی سلامتی کا حوالہ دیتے ہوئے ان روہنگیا مسلمانوں کو ان کا وطن واپس بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ مسٹر اویسی نے حکومت کے اس فیصلے کے خلاف اپنی ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے ٹوئٹ کرکے اسے پر طنز کیا ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز