بی جے پی اور مودی حکومت کے لئے ترقیاتی کام ووٹ کا سودا نہیں : مختار عباس نقوی

اقلیتی امورکے مرکزی وزیر مسٹر مختار عباس نقوی نے آج کہا کہ بھارتیہ جنتاپارٹی (بی جے پی )اور مودی حکومت کے لئے ’ترقی کا کام ووٹ کا سودا‘نہیں ہے

Feb 04, 2018 08:06 PM IST | Updated on: Feb 04, 2018 08:06 PM IST

نئی دہلی : اقلیتی امورکے مرکزی وزیر مسٹر مختار عباس نقوی نے آج کہا کہ بھارتیہ جنتاپارٹی (بی جے پی )اور مودی حکومت کے لئے ’ترقی کا کام ووٹ کا سودا‘نہیں ہے ،اس لئے کسی امتیازی سلوک کے بغیر، ’’شمولیاتی اور ہمہ گیر ترقی وتفویض اختیارات‘‘کی سمت میں مسلسل کام ہورہاہے ۔یہ بات انھوں نے بی جے پی کے دہلی پردیش اقلیتی مورچہ کے ایک روزہ تربیتی کیمپ کے افتتاح کے دوران کہی ۔

انھوں نے کہا کہ ’شمولیاتی ترقی ‘وزیر اعظم مسٹر نریندرمودی کی قیادت والی حکومت کی ترجیحات میں ہے ۔سال 19۔2018کے عام بجٹ میں اقلیتی وزارت کے بجٹ میں 505کروڑ روپئے کا ریکارڈ اضافہ اس کاثبوت ہے ۔انھوں نے کہا کہ پچھلے سال وزارت کا بجٹ 4195کروڑ روپئے تھا،جو اب 4700کروڑ روپئے کردیا گیا ہے ۔یہ اضافہ ،اقلیتی طبقوں کوسماجی ،اقتصادی اور تعلیمی اعتبار سے بااختیار بنانے ،خاص طور سے لڑکیوں کے تعلیمی پرگراموں کو آگے بڑھانے اور انکے موثر نفاذ میں مددگار ہوگا۔

بی جے پی اور مودی حکومت کے لئے ترقیاتی کام ووٹ کا سودا نہیں : مختار عباس نقوی

اقلیتی امورکے مرکزی وزیر مسٹر مختار عباس نقوی۔ فائل فوٹو : یو این آئی ۔

مسٹر نقوی نے کہا کہ اس اضافی بجٹ کا فائدہ اقلیتی طبقوں کو سماجی،اقتصادی اور تعلیمی اعتبارسے بااختیار بنانے اور روزگار رخی ہنرمندی کے فروغ کے پروگراموں کو اور موثر طریقے سے نافذ کرنے اور انکا فائدہ زیادہ سے زیادہ ضرورت مندوں تک پہنچانے میں ملے گا۔

اقلیتی امورکے وزیر مسٹر نقوی نے کہا کہ پچھلے بجٹ کا تقریبا 65فیصد سے زیادہ حصہ اقلیتوں کو تعلیمی اعتبارسے بااختیاربنانے اور روزگاررخی ہنرمندی کے فروغ پر خرچ کیا گیا تھا جس سے 45لاکھ لوگوں نے استفادہ کیا ۔سال 19۔2018کے بجٹ میں اس سے زیادہ خرچ ان فلاحی اسکیموں پر کیا جائیگا۔مسٹر نقوی نے کہا کہ بجٹ میں اضافہ کے بعد انھوں نے اقلیتی وزارت کے سینئرافسران کے ساتھ میٹنگ کرکے اس بارے میں ہدایت دی ہے ۔

انھوں نے کہا کہ اس سال اقلیتی وزارت کازور لڑکیوں کی تعلیمی ترقی پر رہیگا۔بجٹ میں اضافہ سے اقلیتی طبقہ کی لڑکیوں اور خواتین کے لئے جاری مختلف اسکیموں جیسے ’بیگم حضرت محل اسکالرشپ اور نئی روشنی ‘ کو اور آگے بڑھانے میں مددملے گی۔اس کے علاوہ ’سیکھو اور کماؤ‘،’نئی منزل‘ ، ’غریب نواز ہنرمندی فروغ اسکیم‘ سے بڑی تعداد میں لڑکیوں کو فائدہ ہورہاہے ۔

مسٹر نقوی نے کہا کہ مودی حکومت کی ’خوشنودی کے بغیر تفویض اختیار‘ اور ’ڈیولپمنٹ ود ڈگنٹی ‘کی پالیسی کا ہی نتیجہ ہے کہ آج غریب ،کمزورطبقہ اقلیتی طبقہ بھی ترقی کے میدان برابر کا حصہ دار ہے ۔انھوں نے کہا کہ پچھلے تقریبا تین برسوں میں اقلیتی فرقوں کے تقریبادوکروڑ 42لاکھ طلبا کو پری میٹرک ،پوسٹ میٹرک ،میرٹ کم مینس سمیت مختلف طرح کی اسکالرشپ دی گئی ہیں ۔اس سال اقلیتی امور کی وزارت کے ذریعہ دی جارہی مختلف اسکالرشپ کے لئے ریکارڈ ایک کروڑ 50لاکھ سے زیادہ درخواستیں موصول ہوئی ہیں ۔بیگم حضرت محل گرلز اسکالر شپ کے لئے تین لاکھ سے زیادہ درخواستیں موصول ہوئی ہیں ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز