اقلیتی امور کے وزیر مختار عباس نقوی کا تین طلاق کو مذہبی معاملہ تسلیم کرنے سے انکار ، کہی یہ بات

اقلیتی امور کے مرکزی مملکتی وزیر مختار عباس نقوی نے آج کہا کہ طلاق ثلاثہ مذہبی نہیں بلکہ سماجی مسئلہ ہے اور اس طرح کی برائیاں تعلیم (تحریک تعلیم) کے پھیلاؤ سے ہی دور ہو سکتی ہیں۔

May 11, 2017 07:29 PM IST | Updated on: May 11, 2017 07:29 PM IST

نئی دہلی : اقلیتی امور کے مرکزی مملکتی وزیر مختار عباس نقوی نے آج کہا کہ طلاق ثلاثہ مذہبی نہیں بلکہ سماجی مسئلہ ہے اور اس طرح کی برائیاں تعلیم (تحریک تعلیم) کے پھیلاؤ سے ہی دور ہو سکتی ہیں۔ مسٹر نقوی نے مودی حکومت کے دور کے تین سال مکمل ہونے پر اپنی وزارت کے کام کاج اور کامیابیوں کے حوالے سے آج یہاں منعقد پریس کانفرنس میں ایک سوال کے جواب میں یہ بات کہی۔ انہوں نے کہا کہ تین طلاق مذہبی مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ سماجی برائی ہے اور اسے تعلیم کے ذریعے ہی ختم کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اچھی بات ہے کہ اس طرح کے موضوعات پر معاشرے میں مثبت بحث شروع ہوئی ہے۔

انہوں نے جموں و کشمیر میں صورت حال کے بارے میں ایک سوال پر کہا کہ کچھ طاقتیں کشمیر کی ترقی کی دشمن بنی ہوئی ہیں لیکن ریاست کے لوگ ہی ان دشمنوں کے ناپاک منصوبوں کو شکست دیں گے. انہوں نے کہا کہ لیہہ، لداخ اور جموں میں وزارت کے کئی ترقیاتی پروگرام چل رہے ہیں۔ وہاں حالات معمول پر ہوں، اس کے لئے سب کو مدد کرنی چاہئے۔

اقلیتی امور کے وزیر مختار عباس نقوی کا تین طلاق کو مذہبی معاملہ تسلیم کرنے سے انکار ، کہی یہ بات

اتر پردیش میں حال میں کچھ گھروں کو جلا دینے کے واقعہ کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر مسٹر نقوی نے کہا کہ اس طرح کے واقعات نہیں ہونا چاہئیں۔اسی کے ساتھ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت کے گزشتہ تین سال کے دوران فرقہ وارانہ فسادات کے واقعات میں 90 فیصد سے زیادہ کمی آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فرقہ وارانہ کشیدگی کے تئیں حکومت کوئی نرمی نہیں دکھاتی ہے اور اس نے فرقہ وارانہ فسادات کے واقعات کے سلسلے میں عدم برداشت کی پالیسی اختیار کر رکھی ہے۔ اتر پردیش کی حکومت اس معاملے میں کارروائی کر رہی ہے۔

مسٹر نقوی نے کہا کہ انہیں اطمینان ہے کہ حکومت منھ بھرائی اور خوشامدانہ پالیسی اپنائے کے بغیر لوگوں کو با اختیار بنانے کا کام کر رہی ہے۔ اس سے اقلیتوں اور دیگر فرقوں کے درمیان فاصلے کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔ مسٹر نقوی نے کہا کہ گزشتہ تین سال میں 5 لاکھ 20 ہزار سے زیادہ نوجوانوں، جن میں 40 فیصد خواتین شامل ہیں، کو مختلف منصوبوں کے تحت روگار سے مربوط ٹریننگ اور روزگار کے مواقع مہیا کرائے گئے ہیں۔اس کے علاوہ سیکھو اور کماؤ منصوبہ کے تحت 3 ارب 10 کروڑ روپے سے زیادہ کی لاگت سے 2 لاکھ 33 ہزار سے زیادہ نوجوانوں کو تربیت اور روزگار فراہم کرایا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ نئی روشنی اسکیم کے تحت 1 لاکھ 98 ہزار خواتین کو لیڈر شپ ڈولپمنٹ اسکیم کے تحت مختلف ا قسام کی تربیت دی گئی اور نئی منزل منصوبے کے تحت 70،000 نوجوانوں کو تربیت اور روزگار کے مواقع مہیا کرائے گئے۔ اس کے ساتھ ہی ٹیچر، ٹفن، ٹوالیٹ اسکیم سے گزشتہ تین ماہ میں ہی ہزاروں مقامی اقلیتی اسکولوں اور مدرسوں کو شامل کیا گیا ہے۔ان اقلیتی اداروں میں گرودواروں، جین اداروں، بدھ مت کےاداروں، پارسی اداروں اور مسلم تعلیمی اداروں کی طرف سے چلائے جا رہے ادارے شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کثیر علاقائی ترقی کے پروگرام کے تحت اقلیتی اکثریتی علاقوں میں بنیادی ڈھانچہ کی ترقی کی گئی ہے۔ 2014 کے بعد اب تک 33 ڈگری کالج کھولے گئے ہیں۔ 2007 سے 2014 کے درمیان 72 آئی ٹی آئی کھولے گئے تھے جبکہ موجودہ حکومت کے تین سال کی مدت کے دوران وزارت نے گزشتہ تین سال میں 97 آئی ٹی آئی کھولے گئے ہیں۔ اسی طرح 2007 سے 2014 کے درمیان کوئی نئی رہائشی اسکول نہیں کھولا گیا تھا جبکہ موجودہ حکومت کے دور اقتدار میں 18 رہائشی اسکول کھولے گئے ہیں۔ مسٹر نقوی نے بتایا کہ 2016-17 میں قومی اقلیتی ترقی اور فنانس کارپوریشن کے ذریعے سیلف ایمپلائڈ اور کاروبار کے لئے 1 ایک لاکھ 08 ہزار 588 مستفیضین کو مالی مدد دی گئی جبکہ 2013-14 میں 75 ہزار 966 افراد کی مددکی گئی تھی۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز