برماکے مسلمانوں کی حفاظت ہوگی ، اقلیتی فرقہ بی جے پی سے قریب آئے : چیئرمین اقلیتی کمیشن غیورالحسن

Sep 11, 2017 10:39 PM IST | Updated on: Sep 11, 2017 10:39 PM IST

ممبئی : قومی اقلیتی کمیشن کے چیئرمین سید غیورالحسن رضوی نے مسلمانوں کو یقین دلایا ہے کہ بی جے پی کی حکومت اقلیتی فرقہ کی ترقی اورفلاح وبہود کے لیے کوشاں ہے، اس لیے مسلمانوں کو بی جے پی سے خوفزدہ نہیں ہونا چاہئے بلکہ پارٹی کے قریب آئیں تاکہ انہیں درپیش مسائل حل کرنے کی کوشش کی جائے ۔ اقلیتی کمیشن کے چیئرمین غیور الحسن مہاراشٹر مائناریٹی فرنٹ کے صدر فاروق اعظم کی جانب سے منعقد کی گئی ایک تقریب میں ممبئی، تھانے اور پڑوسی علاقوں کے شرکاء سے خطاب کررہے تھے۔اس موقع پر شرکاء نے مسلمانوں کے مسائل اور شکایات پیش کیں۔

انہوں نے کہا کہ بی جے پی لیڈر حیدراعظم نے برما یا میانمار کےمسلمانوں کے معاملات کو پیش کیا ہے اور ان کی کوشش ہوگی کہ وزیراعظم مودی جی اور خارجی امور کی وزیر شسما سوراج کے سامنے برما کے مسلمانوں کو پیش کریں تاکہ ان کے جان و مال کی حفاظت کی جائے۔اور خون خرابہ روکنے کی کوشش ہو۔دہلی پہنچ کر ترجیح بنیاد پر اس معاملہ کو اٹھائیں گے۔ انہوں نے کہاکہ ہندوستان اپنی گنگاجمنی تہذیب کے لیے مشہور ہے اوران کی کوشش ہوگی کہ زمینی سطح سے جڑے لوگوں کو آگے بڑھایا جائے ۔

برماکے مسلمانوں کی حفاظت ہوگی ، اقلیتی فرقہ بی جے پی سے قریب آئے : چیئرمین اقلیتی کمیشن غیورالحسن

غیور الحسن نے مزید کہا کہ وزیر اعظم مودی جی نے ایک عام آدمی کو موقع دیا ہے، اس لیے اقلیتی فرقے کی بہتری کے لیےجوموقع ملے گا، وہ کریں گے۔ اس موقع پر ممبئی بی جے پی صدر ایڈوکیٹ اشیش شیلار نے کہا کہ اقلیتی فرقہ کو بی جے پی کے قریب آنا چاہئے کیونکہ بی جے پی نے سب کاساتھ سب کاوکاس کانعرہ دے کر انہیں بھی ترقی کی دوڑ میں شامل کرلیا ہے۔بلکہ اس مہم میں اسے کامیابی بھی مل رہی ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ مہاراشٹر میں جلدہی اقلیتی کمیشن، مولانا آزاد مالیاتی کارپوریشن اور اردو اکیڈیمی کے چیئرمین کے خالی عہدے پُر کیے جائیں گے۔

بی جے پی کے نائب صدر حیدراعظم نے آغاز میں کہا کہ بی جے پی حکومت کے دور میں حالات پُرامن ہیں، لیکن برما کے حالات سے مسلمانوں میں بے چینی ہے اور اس قتل عام کورکوانے کے لئے چیئرمین اقلیتی کمیشن وزیراعظم اور وزیرخارجہ ششما سوراج صاحبہ سے ملاقات کریں گے اور نمائندگی کریں گے۔ سنیئر لیڈر فاروق اعظم نے کہا کہ گزشتہ تین سال کے دوران اقلیتی فرقے کی تعلیمی، سماجی اور سیاسی ترقی کے لیے بی جے پی سرکاروں نے اہم اقدامات کیے ہیں ۔ممبئی امن کمیٹی کے صدر فرید شیخ نے اسماعیل یوسف کالج کا مسئلہ اٹھایا جبکہ خلدآباد میں اے ایم یو مرکزکے لئے زمین کے الاٹمنٹ کے باوجود سرگرمی شروع نہیں کی گئی ہے، اس لیے ان دونوں معاملات میں بی جے ہی کو پہل کرنا چاہیے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز