بے محرم 88 خواتین شامل عازمین حج، مجموعی کوٹے میں اضافے کا امکان

اقلیتی امور کے مرکزی وزیر مختار عباس نقوی نے کہا کہ ابتک 30 ہزار حج درخواستیں آن لائن موصول ہو چکی ہیں جو عازمین کے اندر نئی سہولتوں سے استفادہ کرنے کی بیداری کی واضح جھلک ہے۔

Nov 21, 2017 06:41 PM IST | Updated on: Nov 21, 2017 06:41 PM IST

نئی دہلی۔ ملک میں مسلم خواتین کو بااختیار بنانے کے رُخ پر مرتب کئے جانے والے نئے باب کے تحت آزادی کے بعد پہلی مرتبہ ہندوستانی مسلم خواتین اکیلے سفر حج پرروانہ ہونے جا رہی ہیں ۔2018 کی نئی حج پالیسی کے تحت اس تبدیلی نے ان میں اتنا زبردست جوش و خروش بھر دیا ہے کہ صرف ایک ہفتہ کے اندر اب تک 88 خواتین کی درخواستیں مرکزی حج کمیٹی کو مل چکی ہیں۔ اس اطلاع کے ساتھ کہ ان درخواستوں میں زیادہ تر قبول کر لی گئی ہیں، اقلیتی امور کے مرکزی وزیر مختار عباس نقوی نے آج یہاں ہندوستانی عازمین حج کے مجموعی کوٹے میں ممکنہ اضافے کا بھی بالواسطہ اشارہ کیا اورکہا کہ 2018 کے حج کو اپنی سہولتوں اور دوسرے امکانات کے ساتھ اور بہتر طریقے سے انجام تک لانے کی کوشش کی جائے گی جس میں قربانی کے کوپن کو بھی اب آپشنل کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ابتک 30 ہزار حج درخواستیں آن لائن موصول ہو چکی ہیں جو عازمین کے اندر نئی سہولتوں سے استفادہ کرنے کی بیداری کی واضح جھلک ہے۔ آن لائن درخواستوں میں سے پندرہ فی صد درخواستیں موبائیل ایپس کے ذریعہ داخل کی گئی ہیں۔ آف لائن درخواستوں کی ابتک کی تعداد تین ہزار کے آس پاس ہے۔70 برس سے زیادہ عمر کے عازمین کی ترجیح بھی برقرار رکھی گئی ہی۔ محرم کے بغیر 45 سال یا اس سے زیادہ عمر کی خواتین کے چار چار کے گروپ کی درخواستوں کےبارے میں انہوں نے بتا یا کہ ایسے 22 گروپوں میں کیرالہ کی 72، مغربی بنگال کی چار، آسام کی چار اور یوپی کی آٹھ خواتین شامل ہیں ۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اگر کسی مسلک میں اس کی اجازت نہیں تو حکومت اس میں مداخلت نہیں کرے گی۔ امبارکیشن پوائنٹس میں کسی طرح کی کمی کے اندیشے کو مسترد کرتے ہوئے مرکزی وزیر نے کہا کہ اس بار جہاں عازمین تمام 21 امبارکیشن پوائنٹ سے سفر حج کر سکتے ہیں وہیں انہیں اپنے اخراجات میں کمی اور سہولتوں کا دائرہ ازخود متعین کرنے کے لئے امبارکیشن پوائنٹ کا انتخاب خود کرنے کا بھی موقع دیا جا رہا ہے۔

بے محرم 88 خواتین شامل عازمین حج، مجموعی کوٹے میں اضافے کا امکان

بی جے پی کے سینئر لیڈر اور مرکزی وزیر مختار عباس نقوی: فائل فوٹو۔

وضاحت طلب کرنے پر مسٹر نقوی نے بتا یا کہ جموں و کشمیر کا حاجی چاہے تو وہ دہلی سے بھی سفر حج کا انتخاب کر سکتا ہے۔ اس طرح اسے ایک لاکھ 9 ہزار 692 روپے کی جگہ 73 ہزار 697 روپے ادا کرنے ہوں گے۔ آسام کا عازم گوہاٹی پر کلکتے کو ترجیح دے کر 32 ہزار 619 روپے بچا سکتا ہے۔ رانچی اور گیا سے ابتک حج کرنے والے بھی کلکتے سے ارزاں سفر حج کا انتخاب کر سکتے ہیں ۔ سبسڈی سے متعلق ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ صرف ہوائی سفر تک محدود یہ سبسڈٰ ی کبھی عام نہیں رہی ۔ سرینگر ، گواہاٹی اور گیا میں جہاں اس سہولت سے عازم حج کوکرائے میں کمی کا فائدہ ملتا تھا وہیں ممبئی، احمد آباد، ناگپور ،بنگلور،کلکتہ،حیدرآبادوغیرہ کے ہوائی کرائے میں سبسڈی سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ حج کمیٹی آف انڈیا اور پرائیویٹ ٹور آپریٹروں کے ذریعہ حج سے متعلق ایک سے زیادہ اختلافی سوالوں کا جواب دیتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا کہ 2012 کے سپریم کورٹ کے متعلقہ فیصلے کے بعد حج کمیٹی نے کچھ سفارشیں پیش کی ہیں جو وزارت کے نزدیک زیر غور ہیں۔ اسی کے ساتھ انہوں نے کہا کہ پرائیویٹ حج پر بھی حکومت کی کڑی نظر ہے تاکہ کسی پرائیویٹ حاجی کا استحصال نہ ہو ۔ خاطی آپریٹروں کی سیکیورٹی رقم ضبط کی جا سکتی ہے اور ایسے تین آپریٹر کی جانچ چل رہی ہے۔

ایک دیگر سوال کے جواب میں مسٹر نقوی نے کہا کہ حج کا مجموعی ہندستانی کوٹہ جو ایک لاکھ 70 ہزار ہے، بڑھانے کے لئے سعودی ذمہ داران سے باہمی بات چیت چل رہی ہے جو جلد نتیجہ خیز ہوئی تو جنوری میں اس اضافے کا امکان ہے۔ وزیر حج نے ایک سائل کے اس خیال سے اتفاق نہیں کیا کہ حج امور کے وزارت خارجہ سے وزارت اقلیتی امور میں منتقلی سےغیر ملکی سفر حج کے بیرون ملک نظم کے ہندستانی قونصل خانے کے ذمہ داران جوابدہ نہیں رہے ۔ انہوں نے کہا کہ ان کی وزارت سعودی عرب میں بھی ہندستانی حاجیوں کے مفادات کا پاس رکھنے کی ذمہ دار ہے اور قونصل خانے کے ذمہ داران کا اسے بھر پور اشتراک حاصل رہتا ہے۔ ہوائی کرائے میں کمی کے لئے گلوبل ٹنڈر کے دیرینہ مطالبے پر وزیر موصوف نے کہا کہ قانوناً اس کی گنجائش نہیں لیکن اب درون ملک اتنی ایئر لائینیں ہو چکی ہیں کہ داخلی طور پر اس امکان کا جائزہ لیا جا سکتا ہے اور اتفاق رائے کی صورت میں استفادہ کیا جاسکتا ہے ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز