پولیس افسر محمد ایوب پنڈت کے قتل میں میرواعظ عمر فاروق کے لوگ ملوث ، دو گرفتار ، ایک کی تلاش جاری

Jun 23, 2017 02:48 PM IST | Updated on: Jun 23, 2017 02:49 PM IST

سری نگر: جموں وکشمیر کے پولیس سربراہ ڈاکٹر ایس پی وید نے کہا کہ سری نگر کی تاریخی جامع مسجد کے باہر ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس محمد ایوب پنڈت کے قتل کے واقعہ میں حریت کانفرنس (ع) چیئرمین میرواعظ مولوی عمر فاروق کے لوگ ملوث ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پیٹ پیٹ کر قتل کے اس واقعہ میں ملوث تین لوگوں کی شناخت کی گئی ہے جن میں سے دو کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

ڈاکٹر وید نے جمعہ کو یہاں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا ’مہلوک ڈپٹی ایس پی کو جامع مسجد کے نذدیک رسائی کنٹرول کی نگرانی کے لئے تعینات کیا گیا تھا۔ کیونکہ ہزاروں لوگ وہاں نماز ادا کرنے کے لئے آئے ہوئے تھے۔ اس کا یہ مقصد تھا کہ غلط عناصر کی وجہ سے لوگوں کو پریشان نہ ہو۔ کسی کو حالات خراب کرنے کا موقع نہ ملے۔ اور لوگ وہاں آرم سے نمازوں اور خدا کو یاد کرنے میں محو رہیں‘۔ انہوں نے کہا ’یہ ایک مقدس رات تھی اور وہ (ڈپٹی ایس پی) اس رات کے لئے کے لئے سیکورٹی انتظامات کی نگرانی کررہا تھا۔ اس دوران وہی لوگ جن کی حفاظت کو وہ یقینی بنا رہا تھا، ان میں سے کچھ لوگ اس کی موت کی وجہ بنے۔ انہوں نے اسے قتل کردیا‘۔

پولیس افسر محمد ایوب پنڈت کے قتل میں میرواعظ عمر فاروق کے لوگ ملوث ، دو گرفتار ، ایک کی تلاش جاری

یہ پوچھے جانے پر کہ کیا ڈپٹی ایس پی کو وہاں میرواعظ کی حفاظت پر مامور کیا گیا تھا، پولیس سربراہ نے کہا کہ میں نہیں جانتا ہوں، مگر ان (میرواعظ) کے ہی لوگ اس قتل میں ملوث ہیں۔ ان لوگوں کو قانون کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ایک سوال کہ کیا ڈی ایس پی ایوب پنڈت وہاں اکیلے تعینات تھے، کے جواب میں ایس پی وید نے کہا کہ معاملے کی تحقیقات ہورہی ہے۔ جو کوئی ملوث ہوگا ، اس کے خلاف قانون کے مطابق کاروائی ہوگی۔ انہوں نے کہا نے کہ قتل کے اس واقعہ میں ملوث تین لوگوں کی شناخت کی گئی ہے ، جن میں سے دو کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے تین لوگوں کی شناخت کرلی ہے۔ ان میں سے دو کو گرفتار کرلیا ہے۔ تیسرے کی تلاش جاری ہے۔ اور اسے بھی بہت جلد گرفتار کرلیا جائے گا ۔ جب ڈی جی پولیس کو ایوب پنڈت کی فائرنگ سے تین نوجوانوں کے زخمی ہونے کے بارے میں پوچھے گیا تو اُن کا جواب تھا’افسر کے پاس پستول بھی تھا۔ اس کے پاس خود کے دفاع کا حق تھا‘۔

قابل ذکر ہے کہ سری نگر کے پائین شہر کے نوہٹہ علاقہ میں واقع تاریخی جامع مسجد کے باہر پولیس افسر کا نوجوانوں کے ایک گروپ کی جانب سے پیٹ پیٹ کر قتل کا واقعہ گذشتہ رات اس وقت پیش آیا جب شب قدر کے سلسلے میں جامع مسجد کے اندر ہزاروں لوگ عبادتوں میں مصروف تھے۔ جبکہ حریت کانفرنس (ع) کے چیئرمین اور متحدہ مجلس علماء جموں وکشمیر کے امیر میرواعظ مولوی عمر فاروق بھی اپنے خصوصی واعظ کے سلسلے میں مسجد کے اندر ہی موجود تھے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز