علاحدگی پسند لیڈر میرواعظ عمر فاروق 500 با اثر مسلم شخصیات کی فہرست میں شامل

Nov 06, 2017 10:24 PM IST | Updated on: Nov 06, 2017 10:24 PM IST

سری نگر: حریت کانفرنس (ع) کے چیئرمین اور متحدہ مجلس علماء جموں وکشمیر کے امیر میر واعظ مولوی عمر فاروق کو عالمی سطح پر سب سے زیادہ با اثر شخصیات کی فہرست مرتب کرنے والے ادارے اردن کے ’دی رائل اسلامک اسٹریٹجک اسٹیڈیز سینٹر‘ نے دنیا کی 500 بااثر مسلم شخصیات میں مسلسل چوتھی بار شامل کر لیا ہے۔حریت کانفرنس کے ایک ترجمان نے کہا ’ادارے کی طرف سے میرواعظ کا دنیا کی 500بااثر مسلم شخصیات اور برصغیر میں منتخب 5افراد میں انتہائی بااثر سیاسی و مذہبی شخصیت کی حیثیت سے انتخاب عمل میں لایا گیاہے‘۔

ادارے کی جانب سے ہر سال دنیا میں مقیم بااثر افراد کی فہرست جاری کی جاتی ہے۔ ادارے کی ’دی مسلم 500 ‘کے عنوان سے 2018 کی سالانہ رپورٹ میں بتایا گیا کہ جموں کشمیر میں موجودہ میرواعظ ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق کو ان کی سماج ، تعلیم ، سیاست اور ملی اور سماجی میدانوں میں جو بے لوث اور مخلصانہ خدمات انجام دی ہیں ان کے اعتراف میں اس عالمی اعزاز سے نوازا جارہا ہے۔

علاحدگی پسند لیڈر میرواعظ عمر فاروق 500 با اثر مسلم شخصیات کی فہرست میں شامل

’دی مسلم 500 ‘ کی مذکورہ رپورٹ کے مطابق میرواعظ نے اپنے نامور والد گرامی ممتاز دینی و سیاسی رہنما شہید ملت میرواعظ مولوی محمد فاروق کی1990ء میں ناگہانی شہادت کے فوراً بعد کشمیری عوام کی شدید خواہش اور اصرار پر صرف 17 سال کی عمر میں میرواعظ کشمیر کا منصب سنبھالا اور اس دوران اپنی تعلیمی اور منصبی ذمہ داریاں ادا کرنے کے ساتھ ساتھ 1993ء میں کشمیری عوام کی حق خودارادیت پر مبنی برحق جدوجہد کو عالمی سطح پر متعارف اورمسئلہ کشمیر کی متنازعہ حیثیت کو اجاگر کرانے کے لئے کشمیر کی جملہ دینی، ملی اور سیاسی جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرکے کل جماعتی حریت کانفرنس کی داغ بیل ڈالی اور تب سے لیکرآج تک مسلسل میرواعظ کشمیر ی عوام کی حق و انصاف سے عبارت جدوجہد کو نہ صرف آگے بڑھا رہے ہیں بلکہ اس ضمن میں انہیں اکثر و بیشتر قابض حکمرانوں کی جانب سے شدید قسم کے عذاب و عتاب، قدغنوں اور پابندیوں کا بھی سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔

میرواعظ نے اپنے اس سیاسی سفر میں کشمیری عوام کی نمائندگی کرتے ہوئے یو این او ، عالم اسلام کے مستند فورم او آئی سی کے علاوہ ’نام‘ اورمتعدد عالمی فورموں ، سمپوزیموں،سمیناروں اور ایوانوں میں مسئلہ کشمیر کی حیثیت اور حساسیت کو بھر پور طریقے سے نہ صرف اجاگر کیا بلکہ اس مسئلہ کے دائمی حل پر بھی زور دیکر بین الاقوامی برادری کی حمایت حاصل کرنے کی بھر پور کوشش کی۔

دریں اثنا حریت ترجمان نے کہا کہ حکومت ہند کی جانب سے گزشتہ پانچ سال سے میرواعظ کشمیر کو پاسپورٹ مہیا نہ کرنے اور سفری دستاویزات نہ ہونے کے سبب موصوف بین الاقوامی اداروں تنظیموں اور فورموں کی جانب سے باضابطہ مدعو کئے جانے کے باوجود شرکت نہیں کرپا رہے ہیں۔

ترجمان نے مذکورہ ادارے کی جانب سے میرواعظ کو اس اعزاز سے نوازنے پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ میرواعظ کی مثبت دینی ، سیاسی اور سماجی خدمات کے اعتراف میں ادارے کی جانب سے ان کو دنیا کی 500بااثر مسلم شخصیات میں شامل کرنا دراصل کشمیریوں کے حق و انصاف کے موقف کی جیت اور کشمیری عوام کیلئے ایک قابل فخر اعزاز ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز