مرزا غالب کی مشہور فارسی مثنوی ’’ چراغ دیر ‘‘ کا سنسکرت ترجمہ منظرعام پر

اردو کےعظیم شاعرمرزا اسد اللہ خاں غالب کی فارسی شاعری کا سنسکرت زبان میں ترجمہ کیا گیا ہے ۔الہ آباد میں واقع اردو زبان و ادب کا قدیم ادارہ ہندوستانی اکادمی نے مرز ا غالب کی مشہور فارسی مثنوی ’’ چراغ دیر ‘‘ کا منظوم سنسکر ت ترجمہ شائع کیا ہے ۔

Aug 02, 2017 11:43 PM IST | Updated on: Aug 02, 2017 11:43 PM IST

الہ آباد :اردو کےعظیم شاعرمرزا اسد اللہ خاں غالب کی فارسی شاعری کا سنسکرت زبان میں ترجمہ کیا گیا ہے ۔الہ آباد میں واقع اردو زبان و ادب کا قدیم ادارہ ہندوستانی اکادمی نے مرز ا غالب کی مشہور فارسی مثنوی ’’ چراغ دیر ‘‘ کا منظوم سنسکر ت ترجمہ شائع کیا ہے ۔غالب کے کلام کو براہ راست سنسکرت میں ترجمہ کرنے سے فارسی اور سنسکرت زبانیں ایک دوسرے کے اور بھی قریب آگئی ہیں ۔

مرزا غالب نے یہ مثنوی اپنے قیام بنارس کے دوران لکھی تھی ۔ غالب نے اس مثنوی میں دریائے گنگا اور شہر بنارس کی خوب تعریف کی ہے ۔ غالب نے اپنی مثنوی میں دریائے گنگا کو ایک مقدس دریا کے طور پر پیش کیا ہے ۔ چراغ دیر کا سنسکرت ترجمہ، فارسی اور سنسکرت کے مشہور عالم ڈاکٹر جگن ناتھ پاٹھک نے کیا تھا ۔ ڈاکٹر جگن ناتھ پاٹھک اس پہلے غالب کے فارسی دیوان کا سنسکرت میں ترجمہ کر چکے ہیں ۔ ڈاکٹر پاٹھک اب اس دنیا میں نہیں ہیں ۔ان کے انتقال کے بعد ہندی اور اردو کے قدیم ادارے ہندوستانی اکاڈمی نے چراغ دیر کو شائع کیا ہے ۔

مرزا غالب کی مشہور فارسی مثنوی ’’ چراغ دیر ‘‘ کا سنسکرت ترجمہ منظرعام پر

مثنوی چراغ دیر کی ایک ہم خوبی یہ بھی کہ فارسی میں ہونے کے باوجود غالب نے اس میں ہندو تہذیب اورعقائد کو ادبی خوبیوں کو ساتھ پیش کیا ہے ۔ چراغ دیر کو سنسکرت کے قالب میں دھالنے سے جہاں ایک طرف فارسی اور سنسکرت زبانیں قریب آئی ہیں، وہیں دوسری جانب ملک کی مشترکہ تہذیب کو بھی فروغ ملے گا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز