مشن 2019: نریندر مودی کے خلاف راہل گاندھی نہیں ہوں گے کانگریس کا چہرہ!۔

Jul 15, 2017 09:45 AM IST | Updated on: Jul 15, 2017 09:49 AM IST

نئی دہلی۔ صدارتی انتخابات میں اپوزیشن کی امیدوار میرا کمار کو نتیش کی حمایت نہیں ملنے کے بعد کانگریس اپنی حکمت عملی بدل سکتی ہے۔ نیوز 18 کو کئی ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق، راہل گاندھی سال 2019 کے عام انتخابات میں پارٹی کا چہرہ نہیں ہوں گے۔ یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ آنے والے اسمبلی انتخابات راہل گاندھی کی نوجوان بریگیڈ کی قیادت میں نہ لڑ کر پرانے لیڈروں کی قیادت میں ہی لڑے جائیں گے۔

بڑے پیمانے پر اسٹریٹجک تبدیلی کے بعد مل رہے اشاروں پر غور کریں تو پارٹی کے پرانے لیڈروں کے رول میں آہستہ آہستہ اضافہ ہوا ہے۔ حال ہی میں نریندر مودی اور بی جے پی کے خلاف اپوزیشن کے اتحاد کے لئے راہل گاندھی کی جگہ سونیا گاندھی آگے آئیں اور تبادلہ خیال کیا۔ اس میں سب سے بڑی ڈیولپمنٹ کے طور پر دیکھیں تو حال ہی میں بنی کانگریس مواصلات کمیٹی میں پی چدمبرم، آنند شرما اور غلام نبی آزاد جیسے سینئر لیڈروں کو اہمیت دی گئی ہے۔

مشن 2019: نریندر مودی کے خلاف راہل گاندھی نہیں ہوں گے کانگریس کا چہرہ!۔

مودی کے خلاف پورے اپوزیشن کو اترنا ہوگا

پارٹی میں اعلیٰ تنظیموں سے منسلک ایک ذرائع نے نیوز 18 کو بتایا، یہ واضح ہے کہ مودی کے خلاف پورے اپوزیشن کو ایک ساتھ اترنا ہوگا۔ کانگریس اکیلے اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ کانگریس کو ایک کرشمہ کے ساتھ ساتھ علاقائی پارٹیوں کی ضرورت ہے۔ مجھے یقین نہیں ہے کہ اس کے لئے راہل انٹرفیس ہوں گے۔

صدر بننے کے بعد بھی چہرہ بننے پر سسپنس

نیوز 18 کو ایک نہیں پانچ بڑے لیڈروں سے اطلاع ملی ہے کہ راہل کو بھلے ہی اکتوبر میں پارٹی کا صدر بنا دیا جائے، لیکن وہ عام انتخابات کے لئے چہرہ نہیں ہوں گے۔ تاہم، سابق مرکزی وزیر آنند شرما سے اس بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کوئی بھی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔

کانگریس کی اچھی حکمت عملی

کچھ سیاسی ماہر مانتے ہیں کہ یہ کانگریس کی اچھی حکمت عملی ہے۔ راہل ایک پاپولر چہرہ نہیں ہیں۔ اگر آپ ایسے لوگوں سے ملیں جو نریندر مودی سے خوش نہیں ہیں تو وہ سوال کرتے ہیں کہ پھر دوسرا کون ہے؟

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز