کیجریوال حکومت اور مرکز میں پھر تکرار کے آثار ، ممبران اسمبلی کی تنخواہ میں اضافہ کی تجویز نامنظور

Feb 17, 2017 01:19 PM IST | Updated on: Feb 17, 2017 05:24 PM IST

نئی دہلی : دہلی کی کیجریوال حکومت اور مرکز کے درمیان ایک بار پھر تلخی بڑھ سکتی ہے۔ مرکزی حکومت نے دہلی حکومت کے ممبران اسمبلی کی تنخواہ میں اضافہ سے متعلق بل کو واپس بھیج دیا ہے۔ اس بل میں کیجریوال حکومت نے دہلی کے ممبران اسمبلی کی تنخواہ میں 400 فیصد اضافہ کا مطالبہ کیا تھا ۔ مرکزی حکومت نے لیفٹیننٹ گورنر کے ذریعے اس بل کو یہ کہتے ہوئے واپس بھیج دیا ہے کہ دہلی حکومت 'قانونی عمل کے تحت اس بل کو دوبارہ صحیح فارمیٹ میں بھیجے۔ مرکز نے گزشتہ سال اگست میں دہلی حکومت سے اس بل کے تناظر میں متعدد سوالات کئے تھے۔ مرکز نے دہلی حکومت سے اتنی زیادہ اضافہ کی وجہ جاننی چاہی تھی ۔

مرکزی حکومت کے ذرائع کے مطابق وزارت داخلہ نے کہا ہے کہ دہلی حکومت وہ وجہ بتائے جس سے یہ سمجھا جا سکے کہ دہلی میں ممبران اسمبلی کی زندگی گزارنے کے خرچ میں 400 فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ وزارت داخلہ نے کیجریوال حکومت کے اس بل کو ایک لائن کے مشورہ کے ساتھ واپس کر دیا ہے۔ وزارت نے لکھا ہے کہ 'یہ بل صحیح فارمیٹ کے ساتھ نہیں بھیجا گیا ہے اور اسے تبھی آگے بڑھایا جا سکتا ہے، جب یہ صحیح طریقہ کے ساتھ بھیجا جائے۔

کیجریوال حکومت اور مرکز میں پھر تکرار کے آثار ، ممبران اسمبلی کی تنخواہ میں اضافہ کی تجویز نامنظور

گیٹی امیجیز

قابل ذکر ہے کہ 2015 میں دہلی اسمبلی نے اراکین اسمبلی کی تنخواہ میں ترمیم سے متعلق یہ بل پاس کیا تھا۔ اس میں ممبران اسمبلی کی تنخواہ 88 ہزار سے بڑھا کر 2 لاکھ 10 ہزار روپے کرنے کی تجویز تھی۔ اس کے ساتھ ہی ممبران اسمبلی کا سفر الاؤنس بھی 50000 روپے سے بڑھا کر تین لاکھ روپے سالانہ کرنے کی تجویز تھی ۔بل کے مطابق دہلی کے ممبران اسمبلی کی بیسک سیلری 50000، ٹرانسپورٹ بھتہ 30000، كميونكیشن بھتہ 10000 اور سکریٹریٹ الاؤنس کے طور پر 70000 روپے فی ماہ کرنے کی تجویز تھی ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز