مودی حکومت سپریم کورٹ میں نیا حلف نامہ داخل کر جامعہ ملیہ اسلامیہ کے اقلیتی درجہ کی کرے گی مخالفت

Aug 07, 2017 11:48 AM IST | Updated on: Aug 07, 2017 11:48 AM IST

نئی دہلی۔ مرکز کی مودی حکومت جامعہ ملیہ اسلامیہ کے اقلیتی درجہ پر سپریم کورٹ میں اپنی حمایت واپس لینے جا رہی ہے۔ وزارت برائے فروغ انسانی وسائل اس سلسلہ میں کورٹ میں نیا حلف داخل نامہ کرنے والی ہے جس میں لکھا جائے گا کہ جامعہ کو اقلیتی درجہ دیا جانا ایک غلطی تھی۔

انڈین ایکسپریس میں شائع ایک خبر کے مطابق، وزارت سپریم کورٹ کو یہ بھی بتائے گی کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کبھی اقلیتی ادارہ نہیں رہا کیونکہ پارلیمنٹ کے ایک ایکٹ کے تحت اس کا قیام عمل میں آیا تھا اور مرکزی حکومت اسے مالی مدد دیتی ہے۔

مودی حکومت سپریم کورٹ میں نیا حلف نامہ داخل کر جامعہ ملیہ اسلامیہ کے اقلیتی درجہ کی کرے گی مخالفت

جامعہ ملیہ اسلامیہ: فائل فوٹو

خیال رہے کہ اقلیتی تعلیمی اداروں کے قومی کمیشن ( این سی ایم ای آئی) نے بائیس فروری ۲۰۱۱ کو اس وقت کی یو پی اے حکومت میں جامعہ کو ایک مذہبی اقلیتی ادارہ کا درجہ دیا تھا۔ اخبار نے اس سے پہلے بھی شائع اپنی ایک رپورٹ کا حوالہ دیا ہے جس میں لکھا ہے کہ ۱۵ جنوری ۲۰۱۶ کو اٹارنی جنرل آف انڈیا نے اس وقت اسمرتی ایرانی کے تحت وزارت برائے فروغ انسانی وسائل کو مشورہ دیا تھا کہ اسے یہ حق حاصل ہے کہ وہ کورٹ میں اپنے موقف کو بدل کر یہ موقف پیش کرے کہ جامعہ ایک اقلیتی ادارہ نہیں ہے اور یہ کہ اس سلسلہ میں این سی ایم ای آئی نے جو رولنگ دی تھی وہ قانون کے مطابق نہیں تھا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز