مودی حکومت کو دفعہ 35 اے پر اپنا موقف واضح کرنا چاہیے : بی جے پی سینئر لیڈر یشونت سنہا

Aug 18, 2017 03:15 PM IST | Updated on: Aug 18, 2017 03:15 PM IST

سری نگر : بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینئر لیڈر اور سابق مرکزی وزیر برائے امور خارجہ یشونت سنہا نے کہا کہ مرکزی حکومت کو آئین ہند کی دفعہ 35 اے پر اپنا موقف واضح کرنا چاہیے۔ ملک کی واحد مسلم اکثریتی ریاست جموں کو خصوصی پوزیشن عطا کرنے والی دفعہ 35 اے کی منسوخی کا مطالبہ کرنے والی ایک عرضی کے عدالت عظمیٰ میں زیر سماعت ہونے کی وجہ سے اہلیان وادی میں اس وقت سخت تشویش پائی جارہی ہے۔ تاہم حکمران جماعت پی ڈی پی اور سبھی اپوزیشن جماعتوں بشمول نیشنل کانفرنس اور کانگریس نے پہلے ہی دفعہ 35 اے کا ہر حال میں دفاع کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔

امور خارجہ کے سابق وزیر مسٹر سنہا جو ’امن مشن‘ کے سلسلے میں اپنی ٹیم ’کنسرنڈ سٹیزنز گروپ‘ یا ’متفکر شہریوں کے گروپ‘ کو لیکر وادی کشمیر کے تیسرے دورے پر آئے ہوئے ہیں، نے جمعہ کو یہاں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اہلیان جموں وکشمیر دفعہ 35 اے کو لیکر خاصے فکر مند ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کو معاملے پر اپنا موقف واضح کرنا چاہیے۔ مسٹر سنہا نے کہا ’دفعہ 35 اے کو لیکر یہاں کے لوگ بہت زیادہ فکرمند ہیں۔ اس فکرمندی کا نوٹس لیا جانا چاہیے۔ مجھے لگتا ہے کہ بھارت سرکار کو اپنا موقف واضح کرنا چاہیے۔ سرکار کو بتانا چاہیے کہ اس کا دفعہ 35 اے پر کیا موقف ہے۔

مودی حکومت کو دفعہ 35 اے پر اپنا موقف واضح کرنا چاہیے : بی جے پی سینئر لیڈر یشونت سنہا

ریاست حکومت نے دفعہ 35 اے پر اپنی طرف سے جوابی حلف نامہ پہلے ہی سپریم کورٹ میں پیش کیا ہے۔ یہاں کے لوگ بھی چاہتے ہیں کہ بھارت سرکار معاملے پر اپنا اسٹینڈ واضح کریں‘۔ واضح رہے کہ سال 2014 میں ’وی دی سٹیزنس‘نامی ایک این جی او نے سپریم کورٹ میں ایک رٹ پٹیشن دائر کی جس میں دفعہ 35A کو چیلنج کیا گیا ۔ گذشتہ ہفتے پٹیشن پر سماعت کے دوران اٹارنی جنرل کے کے وینوگوپال نے عدالت میں دفعہ35 اے کے موضوع کو حساس قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت اس پر وسیع بحث چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس معاملے میں حلف نامہ پیش نہیں کرنا چاہتے۔

اس کے بعد سپریم کورٹ نے دفعہ 35 اے کا معاملہ سہ رکنی بینچکو منتقل کرتے ہوئے اس کے خلاف دائر کی گئی پٹیشن کو چھ ہفتوں کے اندر نپٹانے کا حکم جاری کردیا۔ قابل ذکر ہے کہ دفعہ 35 اے غیر ریاستی شہریوں کو جموں وکشمیر میں مستقل سکونت اختیار کرنے ، غیر منقولہ جائیداد خریدنے ، سرکاری نوکریاں حاصل کرنے ، ووٹ ڈالنے کے حق اور دیگر سرکاری مراعات سے دور رکھتی ہے۔ دفعہ 35 اے دراصل دفعہ 370 کی ہی ایک ذیلی دفعہ ہے ۔ بتایا جارہا ہے کہ 1953 میں جموں وکشمیر کے اُس وقت کے وزیراعظم شیخ محمد عبداللہ کی غیرآئینی معزولی کے بعد وزیراعظم جواہر لعل نہرو کی سفارش پر صدارتی حکم نامے کے ذریعہ آئین میں دفعہ 35A کو بھی شامل کیا گیا، جس کی رْو سے بھارتی وفاق میں کشمیر کو ایک علیحدہ حیثیت حاصل ہے۔ 10 اکتوبر 2015 کو جموں وکشمیر ہائی کورٹ نے اپنے ایک تاریخی فیصلے میں دفعہ 370 کو ناقابل تنسیخ و ترمیم قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’ دفعہ (35 اے ) جموں وکشمیر کے موجودہ قوانین کو تحفظ فراہم کرتی ہے‘۔ دفعہ 35 اے کا دفاع کرنے کے لئے جہاں جموں وکشمیر میں تمام بڑی اپوزیشن جماعتیں بشمول نیشنل کانفرنس اور کانگریس متحد ہوگئی ہیں، وہیں ریاستی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے بھی مرکزی قیادت سے کہا ہے کہ دفعہ 35 اے اور دفعہ 370 پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

محترمہ مفتی نے گذشتہ ہفتے نئی دہلی میں ایک سمینار میں دفعہ 35 اے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں دوٹوک الفاظ میں کہا کہ اگر ریاست کو حاصل خصوصی پوزیشن کے ساتھ کوئی چھیڑ چھاڑ کی گئی تو جموں وکشمیر میں ترنگے کو تھامنے والا کوئی نہیں رہے گا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز