مسئلہ کشمیر: پھر سے بات چیت کا من بنا رہی ہے مودی حکومت

Jun 25, 2017 01:37 PM IST | Updated on: Jun 25, 2017 01:37 PM IST

نئی دہلی: کشمیر میں طویل عرصہ سے صورتحال کو معمول پر لانے کے لئے کوشاں مرکزی حکومت ایک بار پھر بات چیت کے متبادل کو آزمانے کا ارادہ رکھتی ہے، جہاں اب بھی گزشتہ سال سلامتی دستہ کے ساتھ مڈبھیڑ میں انتہا پسند برہان وانی کی ہلاکت کے بعد سے شروع ہونے والے احتجاجی مظاہروں اور تشدد کے واقعات کا سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق حکومت کشمیریوں تک پہنچنے کے لئے ایک بار پھر ٹھوس منصوبہ بنا رہی ہے ۔ تاہم، ابھی یہ فیصلہ نہیں کیا گیا ہے کہ اس سلسلے میں کس کس سے بات چیت کی جائے گی۔ مرکزی وزیر داخلہ گنگارام اهير اگلے ہفتے امرناتھ یاترا کے سلسلے میں سرینگر جا رہے ہیں اور اس دوران حکومت کی جانب سے اس پہل کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔

حکومت کشمیر کے سلسلے میں ترقی اور بات چیت دونوں سطح پر ایک ساتھ آگے بڑھنے کے اپنے اصول کی پیروی کرنا چاہتی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ وہ کشمیریوں کو یہ بتانا چاہتی ہے کہ وہ صورتحال کو معمول پر لانے کے لئے سنجیدہ ہے اور اس منصوبہ پر کام کر رہی ہے۔ داخلہ سکریٹری راجیو مہرشی بھی گزشتہ ماہ جموں و کشمیر گئے تھے اور انہوں نے ریاستی انتظامیہ کے ساتھ مختلف پہلوؤں پر بات چیت کی تھی اور ریاست میں صورتحال کا جائزہ لیا تھا۔ حکومت پہلے بھی کہتی رہی ہے کہ وہ کشمیر کے بارے میں ہر سطح پر بات کرنے کو تیار ہے۔گزشتہ سال خود وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے دو بار وادی کا دورہ کرکے متعلقہ فریقوں کے ساتھ تفصیل سے تبادلہ خیال کیا تھا۔ اس کے بعد پارلیمنٹ کا کل جماعتی وفد وادی کے دورے پر گیا تھا لیکن اس وقت حکومت نے حریت پسند رہنماؤں کے ساتھ بات چیت نہیں کی تھی۔

مسئلہ کشمیر: پھر سے بات چیت کا من بنا رہی ہے مودی حکومت

file photo

ایک ٹیلی ویژن چینل کے ذریعہ علاحدگی پسند رہنماؤں کے اسٹنگ آپریشن میں اس بات کا انکشاف ہونے سے کہ انہیں وادی میں پتھر بازی اور توڑ پھوڑ کے واقعات کے لئے سرحد پار سے اور خاص طور پر دہشت گرد تنظیموں سے رقم ملتی ہے، صورتحال اس بار زیادہ پیچیدہ ہو گئی ہے۔ متعدد حریت پسند لیڈران اس سلسلے میں قومی جانچ ایجنسی کی جانچ کے گھیرے میں ہیں اور ان پر شکنجہ کستا جارہا ہے۔ ایسی صورت میں ان کے ساتھ ابھی بھی بات چیت کا امکان نہیں ہے۔

چند ماہ پہلے سرینگر لوک سبھا ضمنی انتخابات کے دوران تشدد کے واقعات میں تیزی آ گئی تھی۔ اسی دوران سلامتی دستہ پر پتھراؤ کے واقعات بھی بڑھ گئے تھے۔ انتخابات کے لئے پولنگ پیٹیوں کو لے جانے والی سکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ مقامی لوگوں کے تشدد اور ان پر پتھراؤ کے خدشہ کے پیش نظر فوج کے ذریعہ ایک مبینہ پتھر باز کو جیپ کے آگے انسانی ڈھال کے طور پر باندنے کے واقعہ نے بھی طول پکڑا اور علیحدگی پسندوں نے اس پر بھی لوگوں کو اکسایا۔

اسی ہفتے سری نگر میں ایک مسجد کے باہر ڈیوٹی پرتعینات پولیس ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ محمد ایوب پنڈت کو لوگوں کی بھیڑ نے پیٹ پیٹ کر قتل کردیا تھا، جس سے بھی ریاست میں اندرونی سلامتی کی صورتحال زیادہ ابتر ہو گئی ہے۔ اس سے ریاستی حکومت کو بھی علاحدگی پسندوں کے خلاف اپنے موقف میں سختی لانا پڑا ہے۔وزیر اعلی محبوبہ مفتی نے کہا ہے کہ پولس انتہائی تحمل سے کام کر رہی ہے اور اس کے صبر کا امتحان نہیں لیا جانا چاہئے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز