این سی ای آر ٹی کی کتاب میں تبدیلی ، اب 2002 کا گجرات فساد نہیں کہلائے گا مسلم مخالف

May 20, 2017 05:42 PM IST | Updated on: May 20, 2017 09:24 PM IST

نئی دہلی : این سی ای آرٹی کی 12 ویں کی کتابوں میں بڑی تبدیلی کی جا رہی ہے۔ تبدیلی کے تحت این سی ای آرٹی کی کتاب میں 2002 میں ہوئے فسادات کو مسلم مخالف فسادات نہ کہہ کر صرف گجرات فسادات کے طور پر پڑھایا جائے گا۔ گجرات فسادکو آزاد ہندوستان کی تاریخ کا سب سے بڑی فرقہ وارانہ فسادات میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ اس کا فیصلہ کورس ریویو میٹنگ میں لیا گیا۔ اس میٹنگ میں سینٹرل بورڈ آف ایجوکیشن اور نیشنل کونسل آف ایجوکیشن ریسرچ اینڈ ٹریننگ کے نمائندے شامل تھے ۔ سال 2007 میں کانگریس کی قیادت والی یو پی اے حکومت کے دور میں کلاس 12 ویں کی کتاب میں اس باب کو شامل کیا گیا تھا۔

ہندوستان ٹائمس کی رپورٹ کے مطابق این سی ای آر ٹی کے ایک افسر نے بتایا کہ اس مسئلے کو سی بی ایس ای کی جانب سے بھی اٹھایا گیا تھا۔ اس سال کے آخر میں پرنٹ ہونے والی کتابوں میں یہ تبدیلی کردی جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ ریویو ایک مسلسل چلنا والا عمل ہے۔ ہم ہر مرتبہ کتابیں ری پرنٹ کرنے سے قبل نئی منظور شدہ چیزوں کو شامل کرتے ہیں اور معلومات کو اپ ڈیٹ بھی کرتے ہیں۔ اس سال ہم اس کی عمل کو زیادہ پلاننگ اور باقاعدہ طریقہ سے کر رہے ہیں۔

این سی ای آر ٹی کی کتاب میں تبدیلی ، اب 2002 کا گجرات فساد نہیں کہلائے گا مسلم مخالف

file photo

خیال رہے کہ اسکول کی تعلیم کے لئے این سی ای آرٹی کو حکومت کا تھنک ٹینک سمجھا جاتا ہے۔ این سی ای آرٹی کی طرف سے اس اقدام کو کتابوں کو اپ ڈیٹ کرنے کے عمل بتایا جارہا ہے۔ کلاس 12 ویں کے پولیٹیکل سائنس کی کتاب پولیٹکس ان انڈیا سنس اینڈی پنڈنس کے صفحہ نمبر 187 پر 'اینٹی مسلم رائٹس ان گجرات کے عنوان سے ایک مضمون دیا گیا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق فروری مارچ 2002 میں بھڑکے تشدد میں 800 مسلم اور 250 سے زیادہ ہندو لوگ مارے گئے تھے۔ اس فساد کو آزاد ہندوستان کی تاریخ کا سب سے سنگین فرقہ وارانہ فسادات میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز