ورلڈ فوڈ انڈیا -2017 کا افتتاح ، وزیر اعظم مودی کی کمپنیوں سے فوڈ پروسیسنگ میں سرمایہ کاری کی اپیل

Nov 03, 2017 01:47 PM IST | Updated on: Nov 03, 2017 01:47 PM IST

نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی نے عالمی کمپنیوں سے دنیا میں صحت کے تحفظ اور مزیدار کھانے کی اشیا کی دستیابی کے لئے ہندوستانی زراعت اور فوڈ پروسیسنگ کے شعبہ میں سرمایہ کاری اپیل کی ہے۔ مسٹر مودی نے فوڈ پروسیسنگ صنعت وزارت کی جانب سے آج یہاں منعقد ’ورلڈ فوڈ انڈیا- 2017' کا افتتاح کرتے ہوئے کہا کہ دنیا میں لوگ اپنے رہن سہن، خوردونو ش اور طرز زندگی کی وجہ سے کئی بیماریوں کی زد میں آرہے ہیں۔ لیکن نامیاتی زراعت اوراس سے تیار ہونے والی مصنوعات سے اس سےمؤثر طریقہ سے نمٹا جا سکتا ہے۔ انہوں نے ہندوستانی ہلدی، ادرک اور تلسی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہندوستانی کھانے کی مصنوعات سے صحت کی حفاظت کی جا سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہندوستان دنیا میں سب سے تیز رفتار سے بڑھتی معیشت ہے اور اس نے کاروبار کے سیکٹر میں سرمایہ کاری کے لئے پہلے کے مقابلہ میں ضابطوں کو بہت سہل بنایا ہے۔ فوڈ پروسیسنگ کے شعبے میں سرمایہ کاری کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ گڈز اینڈ سروس ٹیکس (جی ایس ٹی)کا نظام نافذ کرکے کئی قسم کے ٹیکس کو ختم کیا گیا ہے اور سرمایہ کاری کے سلسلہ میں مرکز، ریاستی حکومتوں کو سہولت دے رہی ہے۔

ورلڈ فوڈ انڈیا -2017 کا افتتاح ، وزیر اعظم مودی کی کمپنیوں سے فوڈ پروسیسنگ میں سرمایہ کاری کی اپیل

وزیر اعظم نریندر مودی

مسٹر مودی نے کہا کہ ملک میں کاروبار کو آسان بنانے کے لئے متعدد اصلاحات کئے گئے ہیں اور اس میدان میں ہندوستان نے 30 پوائنٹس کی چھلانگ لگائی ہے اور دنیا کی سو ممالک کی فہرست میں شامل ہو گیا ہے۔ انہوں نے پرائیویٹ سیکٹرکی کئی شعبوں میں سرمایہ کاری کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اس سےمعاہدہ زراعت اور فصل تیار ہونے کے بعد ہونے والے نقصان مینجمنٹ کے شعبہ میں قائدانہ رول ادا کرنے کی ضرورت ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ کولڈ چین، ریفریجیٹر ٹرانسپورٹیشن، ویلیو ایڈیشن اور نامیاتی زراعت میں غیر ملکی کمپنیوں کو سرمایہ کاری کرنے کے مواقع ہیں۔ انہوں نے کسانوں کو ’ان داتا‘ بتاتے ہوئے کہا کہ حکومت نے پانچ سال میں ان کی آمدنی دوگنا کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس میں فوڈ پروسیسنگ صنعت اہم رول ادا کر سکتا ہے۔

مسٹر مودی نے کہا کہ فوڈ پروسیسنگ کے شعبہ میں سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لئے حکومت نے 6000 کروڑ روپے کی لاگت سے ’پردھان منتری سمپدا یوجنا ‘ شروع کیا ہے جو رقم اگلے تین سال کے دوران خرچ کی جائے گی۔ اس سے 20 لاکھ کسانوں کو فائدہ ہوگا اور تقریباً پانچ لاکھ لوگوں کو روزگار ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں 9 فوڈ پارک میں کام شروع ہو گیا ہے اور 30 زیر تعمیر ہیں۔مسٹر مودی نے کہا کہ بہت سی ریاستی حکومتیں فوڈ پروسیسنگ کے شعبہ میں سرمایہ کاری کے لئے آگے آئی ہیں لیکن انہیں ضلع سطح پر بھی ایک بہترین کھانے کی مصنوعات کو انتخاب کرنا چاہئے جس سے ملک کے لوگ آگاہ ہو سکیں۔

انہوں نے ’سوئٹ ریووليوشن‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ شہد کی مکھی سے کسانوں کی آمدنی بڑھائی جا سکتی ہے۔ قدرتی موم کا فائدہ دنیا کے لوگ لے سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان دنیا میں بڑا ماہی پیداواری اور برآمداتی ملک ہے۔ یہ دنیا میں کیکڑے کا سب بڑ برآمدکنندہ ملک ہے جو 95 ممالک کو اپنے ذائقہ سے روشناس کراتا ہے۔ ملک میں چھ فیصد کی شرح سے مچھلی کی پیداوار بڑھ رہی ہے۔ اس کے باوجود سجاوٹی مچھلی عمل اور ٹراؤٹ فارمنگ میں سرمایہ کاری کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے نامیاتی زراعت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سکم کو نامیاتی ریاست منظور کرلیا گیا ہے اور شمال مشرقی علاقہ کی ریاستوں میں نامیاتی زراعت کے بے پناہ امکانات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جوار کی کاشت مختلف حالات میں بھی کی جاتی ہے اور یہ تغذیہ سے بھرپور ہے جس کا فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے۔مسٹر مودی نے کوآپریٹو فیڈرلزم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کوآپریٹیو کے ذریعہ ہندوستان دنیا میں سب سے بڑا دودھ پیداواری ملک بن گیا ہے اور ایسا تجربہ دوسرے شعبوں میں بھی کیا جا سکتا ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز