لکھنو انکاونٹر : سیف اللہ کے والد سرتاج نے کہا : دہشت گرد کا کوئی مذہب نہیں ہوتا ، لڑکوں کے برین واش کی نہیں تھی امید

Mar 09, 2017 03:05 PM IST | Updated on: Mar 09, 2017 03:09 PM IST

کانپور : لکھنؤ میں اتر پردیش اے ٹی ایس کے ساتھ انکاونٹر میں ہلاک سیف اللہ کے والد محمد سرتاج کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں ہوتا ہے۔ سرتاج نے مزید کہا کہ گزشتہ ڈھائی تین مہینوں میں سیف اللہ کا برین واش ہوا گا۔ انہوں نے کہا کہ وہ گھر سے سارا سامان لے کر چلا گیا تھا اور کہہ کر گیا تھا کہ اب کبھی واپس نہیں لوٹے گا۔ سیف اللہ کے والد نے کہا کہ موبائل اور واٹس ایپ سے لوگ بگڑ جاتے ہیں۔

ایک ٹی وی چینل سے بات چیت کرتے ہوئے محمد سرتاج نے کہا کہ گرفتار کئے گئے دیگر نوجوان دانش، عمران اور فیصل ہمارے خاندان کے ہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مجھے امید نہیں تھی کہ ان لڑکوں کا برین واش کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اکثر موبائل پر گانے سنتا رہتا تھا، لیکن کبھی نہیں لگا کہ وہ گمراہ ہورہا ہے۔ وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کی جانب سے خود کو سلام کئے جانے پر کہا کہ 'ہم وزیر داخلہ کے شکرگزار ہیں، ہم ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ وہ میرے جیسے شخص کو سلام کرتے ہیں۔ وہ عظیم آدمی ہوں گے جو میرے جیسے شخص کو بھی سلام کر رہے ہیں۔

لکھنو انکاونٹر : سیف اللہ کے والد سرتاج نے کہا : دہشت گرد کا کوئی مذہب نہیں ہوتا ، لڑکوں کے برین واش کی نہیں تھی امید

خیال رہے کہ قبل ازیں وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے لوک سبھا میں انکاونٹر سے متعلق بیان دیتے ہوئے کہا کہ سیف اللہ کے والد محمد سرتاج پر ملک کو فخرہے، ان کے تئیں پورے ایوان کو ہمدردی ہونی چاہئے۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ ٹرین دھماکہ اور لکھنؤ انکاونٹر سمیت پورے واقعے کی جانچ این آئی اے سے کرائی جائے گی۔

راج ناتھ سنگھ نے ایوان کو بتایا کہا کہ 'یوپی پولیس سے ملاقات میں سیف اللہ کے والد نے کہا ہے کہ جو ملک کا نہ ہوا، وہ میرا کیا ہوگا، مجھے اس کا مرا منہ بھی نہیں دیکھنا ہے، ہر کسی کے لئے ملک سب سے پہلے ہے، اگر وہ ملک کا ہی نہیں ہوا تو میرا کیا ہوگا۔ ' وزیر داخلہ نے کہا کہ سیف اللہ کے والد نے اپنے بھٹکے ہوئے بیٹے کے تئیں یہ بات کہی ہے، ان کے دکھ میں ہمیں ہمدردی ہونی چاہئے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز