! اسپیشل اسٹوری:محمد شمی کی'حسین' جہاں۔۔"عشق"،طلاق اور صنم بے وفا

بابو اسٹور"...ایک کیرانے کی دکان بازار کی باقی دکانوں کی طرح کل تک یہ بھی عام دکان تھی۔لیکن آج نہ صرف یہ دکان بلکہ دکان کے مالک بھی چرچہ میں آگئے ہیں ۔کیونکہ کبھی حسین جہاں اسی بابو اسٹور کی مالکن کہلاتی تھیں اور کیرانے کی دکان چلانے والے شخص سیف الدین حسین جہاں کے شوہر ہوتے تھے۔

Mar 12, 2018 06:40 PM IST | Updated on: Mar 12, 2018 06:58 PM IST

نئی دہلی۔کرکٹر محمد شمی سے تنازع کے بعد سرخیوں میں آئیں ان کی اہلیہ حسین جہاں کی زندگی کی کہانی میں بھی کئی ٹوئسٹ ہیں۔ کرکٹر محمد شمی کی اہلیہ حسین جہاں سابق ماڈل ۔لیکن سرخیوں ،میں چھائے اس چہرے کی پہچان صرف اتنی ہی نہیں ہے ۔حسین کی زندگی کی کہانی کے کئی بڑے ٹوئسٹ اس وقت کے ہیں۔جب ان کی زندگی میں محمد شمی نہیں تھے،تب حسین جہاں کی پہچان مغربی بنگال کے بیر بھوم ضلع کے بابو اسٹور سے جڑی تھی۔

جب "بابو اسٹور"کی تھیں حسین

! اسپیشل اسٹوری:محمد شمی کی'حسین' جہاں۔۔

کرکٹر محمد شمی سے شادی سے پہلے حسین جہاں کے دو بچے اور سابق شوہر کا انکشاف

بابو اسٹور"...ایک کیرانے کی دکان بازار کی باقی دکانوں کی طرح کل تک یہ بھی عام دکان تھی۔لیکن آج نہ صرف یہ دکان بلکہ دکان کے مالک بھی چرچہ میں آگئے ہیں ۔کیونکہ کبھی حسین جہاں اسی بابو اسٹور کی مالکن کہلاتی تھیں اور کیرانے کی دکان چلانے والے شخص سیف الدین حسین جہاں کے شوہر ہوتے تھے۔

بابو اسٹور کے مالک حسین جہاں کے سابق شوہر شیخ سیف الدین۔

حسین جہاں کے سابق شوہر شیخ بابو بتاتے ہیں کہ حسین ان کے محلے میں ہی رہتی تھیں تو ایسے ہی جان پہچان ہو گئی۔اس کے بعد پیار ہوا اور پھر "لو میرج" ہوئی۔شادی کے بعد سب ٹھیک چل رہا تھا۔وہ اچھی لگتی تھیں۔

بیر بھوم میں گزرا حسین کا بچپن

یہی کہانی حسین جہاں کی پہلی شادی کی ہے یہ کہانی آسمان چھونے کی حسرت رکھنے والی اس لڑکی کی ہے جسے گھر کی چوکھٹ کے اندر رہنے کی شرط منظورنہیں تھی۔کولکاتہ کے بیر بھوم میں کے سوڑی میں حسین کا بچپن گزرا ہے۔سونا تور پاڑہ کی ان گلیوں نے حسین جہاں کو کھیلتے کودتے دیکھا ہے۔

سوناتور پاڑہ کی ان گلیوں میں گزرا حسین جہاں کا بچپن

نیوز 18 کی ٹیم نے جب محلے میں قدم رکھا تو یہ پتہ لگانے میں دیر نہیں لگی کہ حسین جہاں کا گھر کون سا ہے۔ناز نام کا یہ مکان آج گلی میں چرچہ کا مرکز ہے۔کیونکہ اسی گھر میں حسین جہاں نے آنکھیں کھولیں اور یہیں پر رہتے ہوئے جوانی کی دہلیز پر قدم رکھا۔

مغربی بنگال کے بیر بھومی میں واقع حسین جہاں کا گھر

چھوٹی عمر سے ہی حسین جہاں میں آگے بڑھنے کا جذبہ تھا اور جتنا جذبہ تھا اتنی ہی محنت کرتی تھیں۔(تصویر میں ابھی جس کمرے میں حسین کے والد بیٹھے نظر آرہے ہیں وہ کبھی حسین کا کمرا ہوا کرتا تھا)۔

حسین جہاں کے والد محمد حسین

اس کیلئے وہ کافی محنت بھی کرتی تھیں۔حسین جہاں کے والد محمد حسین بڑے فخر سے بیٹی کے بچپن کی کہانی سناتے ہیں۔حسین جہاں کی پہلی شادی کی کہانی بھی اسی محلے سے شروع ہوتی ہے۔ان کے پہلے شوہر شیخ سیف الدین بھی اسی محلے کے رہنے والے ہیں۔بچپن سے ہی سیف الدین اور حسین کافی اچھے دوست تھے۔رفتہ رفتہ دوستی پیار میں بدل گئی۔ اور ایک دن سیف الدین نے اپنے دل کی بات حسین جہاںکو بتا دی۔حسین نے بھی اس رشتے کو قبول کر لیا۔سیف الدین کے مطابق انہوں نے حسین کو پرپوز کیا تھا۔محلہ میں دونوں ایک ساتھ بڑے ہوئے ،وہ اچھی لڑکی تھیں۔شادی سے پہلے دوست تھیں۔وہ کہتے ہیں کہ "ہم ایک ساتھ پڑھتے تھے ،وہ مجھ سے 2 سال عمر میں چھوٹی ہیں۔میری عمر 37کی ہے۔حسین جہاں کی بچپن سے ہی کھیل کود میں دلچسپی تھی۔کرکٹ کا جنون تب بھی سر چڑھ کر بولتا تھا۔

ماڈل بننا چاہتی تھیں حسین جہاں

حسین جہاں ماڈل بننا چاہتی تھیں۔لیکن ان کے سابق شوہر سیف الدین کے گھر والے اس بات کیلئے راضی نہیں تھے۔اس بات سے ناراض حسین نے شادی توڑنے کا فیصلہ کر لیا۔ایک طرف حسین جہاں اپنے لئے نئی منزل تلاشنے میں مصروف تھیں تو دوسری جانب سیف الدین کے ساتھ ان کا پیار پروان چڑھتا رہا۔2002 میں 19 سال کی عمر میں اہل خانہ کی رضا مندی سے دونوں کی شادی ہو گئی۔اس شادی سے دونوں کی دو بیٹیاں ہوئیں لیکن یہ شادی 8سال ہی چل پائی۔2010میں دونوں کے درمیان طلاق ہو گیا۔

یہ تھے حسین جہاں کے خواب جس کی وجہ سے ہوا تھا سابق شوہر سے طلاق۔

سیف الدین بتاتے ہیں کہ حسین سے لگاؤ اسکول لائف میں ہی شروع ہوا ۔یہ لگاؤ پھر پیار میں بدلا۔2002میں ہم نے شادی کی ۔میری ہنستی کھلیتی فیملی تھی۔میری دو بیٹیاں بھی ہیں۔2010 تک شادی ٹکی رہی اس کے بعد طلاق ہو گیا۔

حسین کے سابق شوہر کے مطابق وہ اپنے پیروں پر کھڑا ہونا چاہتی تھیں لیکن سیف الدین کے گھر والے اس بات کیلئے راضی نہیں تھے۔حسین کے خواب تھے کہ وہ ماڈل بنیں۔لہذا اپنے خوابوں کے پیچھے بھاگتی حسین نے شادی توڑنے کا فیصلہ کر لیا۔

دونوں کے درمیان طلاق کیوں ہوا؟

طلاق کیوں ہواَ اس سوال کا جواب دیتے وقت سیف الدین حسین کے سابق شوہر جذباتی ہو گئے۔پھر سیف الدین نے کہا کہ یہ حسین ہی بتائیں گی کہ طلاق کیوں ہوا؟ وہ اپنے دم پر کھڑا ہونا چاہتی تھیں۔یہ ہم لوگ نہیں چاہتے تھےکہ گھر کی خاتون باہر کام کرے اس لئے طلاق لیا۔

طلاق کے بعد حسین کولکاتہ چلی آئیں اور اپنے خوابوں کی نئی اڑان تلاشنے لگیں۔

شمی کی اینٹری پھر رشتے میں کڑواہٹ

محمد شمی سے شادی کے بعد حسین جہاں کی زندگی نے ایک بار پھر رفتار پکڑی لیکن شادی کے 4 سال بعد ہی ان کے رشتے میں کڑواہٹ آنے لگی۔یہ وہی وقت تھا جب کولکاتہ سے 1200 کلو میٹر دورامروہہ میں 20 سال کاایک لڑکا ٹیم انڈیا میں اپنا مقام بنانے کیلئے میدان میں پسینہ بہا رہا تھا۔تب کون جانتا تھا کولکاتہ اپنی اپنی منزل کی تلاش میں بھٹک رہے دو دلوں کے ملن کا گواہ بننے والا ہے۔

Mohmmad-Shami-2

بتادیں کہ 2011میں محمد شمی کو آئی پی ایل کی کے-کے آر ٹیم کیلئے منتخب کیا گیا۔حسین جہاں تب چیئر لیڈر کے طور پر ماڈلنگ میں اپنی پہچان بنا نے میں مصروف تھیں۔2012 میں چیئر لیڈر رہنے کے دوران حسین کی ملاقات محمد شمی سے ہوئی۔ایک بار پھر حسین جہاں پیار کی گرفت میں آ گئیں۔شمی اور حسین جہاں کی دوستی جہاں پیار میں بدلی اور 2014میں شمی اور حسین نے "لو میرج"کر لی۔حسین کے والد محمد حسین نے بتایا کہ ہم بولے تھے کہ پہلے کلیئر کر لو۔ہم نے بھی سب کلیئر کر لیا۔اس کے والدین سے بات کر لی تھی۔کولکاتہ میں 2014 میں عام طور طریقوں سے دونوں کی شادی ہوئی۔

عمرمیں چھوٹے محمد شمی سے شادی  کے بعد حسین کی زندگی نے ایک مرتبہ پھر رفتار پکڑ لی۔اس دوران ان کی ایک بیٹی بھی ہوئی لیکن شادی کے 4 سال بعد گاڑی پھر تھرکنے لگی۔پیار کے راستے میں بے وفائی کے پتھر پڑنے لگے اور رشتے سے یقین کھونے لگا۔تصویروں میں سب کچھ خوشحال نظر آ رہا تھا لیکن حسین جہاں کے مطابق وہ چار سال سے رشتے کو بچائے رکھنے کیلئے مشقت کر رہی تھیں۔

شوہر۔بیوی کی اس مہا جنگ کی شروعات اس وقت دنیا کے سامنے آئی جب حسین نے یہ موبائل فون میڈیا کو دکھایا۔حسین کے مطابق یہ فون شمی کا ہے۔جو انہیں ان کی کار سے ملا تھا۔اس اس میں شمی جیسا گیند باز جس کی گیند بڑی مشکل سے سرحد کی حد سے باہر جاتی ہے وہ ساری حدیں توڑتے ہوا نظر آ رہا ہے۔حسین نے میڈیا کے سامنے یہ دعوی کیا کہ شمی کا وہ مو بائل میرے ہاتھ نہیں آتا تو مجھے طلاق دے دیتا۔

اس درمیان محمد شمی میڈیا کے سامنے آکر بار بار اس بات کی دہائی دے رہے ہیں کہ وہ اپنی بچی کی خاطر صلح چاہتے ہیں۔لیکن حسین جہان اس بات پر بضد ہیں کہ شمی اپنی غلطی قبول کریں۔اس تنازع کا انجام کیا ہوگا؟یہ ابھی نہیں بتا سکتے لیکن حسین کے والد کا ایک بیان اس بات کی تصدیق ضرور کرتا ہے کہ حسین آسانی سے پیچھے نہیں ہٹنے والی ہیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز