آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت نے گئوکشی کے خلاف ملک بھر میں قانون بنانے کی وکالت کی

Apr 09, 2017 05:09 PM IST | Updated on: Apr 09, 2017 05:09 PM IST

نئی دہلی : راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سربراہ موہن بھاگوت نے گئوکشی کے خلاف ملک بھر میں ایک قانون بنانے کی وکالت کی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے ویجلینس گروپوں سے جانوروں کی حفاظت کرتے وقت قانون کی پیروی کرنے کے لئے کہا ۔ بھاگوت نے کہا ہے کہ ہم ملک بھر میں گئو کشی پر روک لگانے والا قانون چاہتے ہیں۔ بھاگوت کے مطابق قانون پر عمل کرتے ہوئے گائے کی حفاظت کرنے کا کام جاری رہنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ گئو کشی کے نام پر کوئی بھی تشدد مقصد کو بدنام کرتی ہے اور قانون پر عمل کرنا ہی چاہئے۔

آر ایس ایس کے سربراہ نے گئوركشكوں کو نصیحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ گائے کی حفاظت کے دوران تشدد غلط ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے تشدد سے گائے کو بچانے کے مہم کو دھچکا لگتا ہے۔ بھاگوت نے کہا کہ ملک میں گئو کشی پر پابندی ہو یہ وہ بھی چاہتے ہیں ، لیکن تشدد سے اس طرح کی کوشش کمزور پڑ جاتی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ گئو رکشا کے دوران عدم تشدد کا راستہ اپنانا چاہیے۔

آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت نے گئوکشی کے خلاف ملک بھر میں قانون بنانے کی وکالت کی

خیال رہے کہ بھاگوت کا یہ بیان راجستھان کے الور واقعہ کے بعد سامنے آیا ہے۔ حال ہی میں الور میں پہلو خان کا گئوركشكوں نے پیٹ پیٹ کر قتل کر دیا تھا۔ 50 سال کے پہلو خان ​​کی موت یہاں کے ایک اسپتال میں علاج کے دوران ہو گئی تھی۔ واقعہ کی تمام سیاسی جماعتوں نے سخت الفاظ میں مذمت کی تھی۔ اس سلسلہ میں اب تک پولیس نے چار افراد کو گرفتار کیا ہے۔

علاوہ ازیں 7 مارچ کو سپریم کورٹ نے گئو رکشا کے نام پر تشدد پھیلانے والوں پر سختی برتتے ہوئے 6 ریاستوں کو نوٹس جاری کر جواب طلب کیا ہے، جن میں 5 بی جے پی کی حکومت والی ریاستیں ہیں۔ ججوں نے متعلقہ ریاستوں سے تین ہفتے میں جواب دینے کیلئے کہا ہے۔ اگلی سماعت 3 مئی کو ہوگی۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز