اترپردیش کے اس گاؤں نے پہلی بار جانا کیسی ہوتی ہے بجلی

May 17, 2017 08:43 AM IST | Updated on: May 17, 2017 08:43 AM IST

لکھنؤ۔ لکھنئو سے 40 کلومیٹر دور موہن لال گنج علاقے کے راجا کھیڑا گاؤں میں 21 اپریل 2017 کو آزادی کے بعد پہلی بار گاؤں والوں نے جانا بجلی کیا ہوتی ہے۔ اس گاؤں میں بجلی ایک ماہ قبل پہنچی بھی تو مرکزی حکومت کی پنڈت دین دیال اپادھیائے گرام جیوتی یوجنا کے ذریعے۔ ان گاؤں میں جانے کے بعد پتہ چلا آخر بجلی نہیں ہونے کا درد کیا ہوتا ہے۔

راجا کھیڑا گاؤں کے ایک بزرگ ملے، جن کی زندگی بغیر بجلی کے گزر گئی۔ کہتے ہیں عمر کے اس پڑاؤ پر آکر ہم نے ایک ماہ پہلے بجلی نام کی کیا چیز ہوتی ہے پہلی بار دیکھا ہے۔ گاؤں میں آج کی تاریخ میں ہر گھر میں پنکھا اور ٹی وی لگ گیا ہے۔ ہماری ملاقات گاؤں کے ونود کمار (30 سال) سے ہوئی۔ انہوں نے نیوز 18 ہندی سے خاص بات چیت میں بتایا کہ ہم لوگ پی ایم مودی اور سی ایم یوگی کو دل سے مبارک باد دیتے ہیں، جنہوں نے اس گاؤں میں بجلی لاکر ایک نئی توانائی دینے کا کام کیا ہے۔

اترپردیش کے اس گاؤں نے پہلی بار جانا کیسی ہوتی ہے بجلی

ونود بتاتے ہیں کہ جب اس گاؤں میں بجلی نہیں تھی تو گاؤں والے رات کو گھر سے نکلنے سے ڈرتے تھے۔ وہیں بچوں کی پڑھائی بھی کافی متاثر ہوتی تھی۔ کسی کی طبیعت خراب ہو جائے تو اس کو ہسپتال لے جانے میں سخت محنت کرنی پڑتی تھی۔ سماج کی خدمت کے ذریعے گاؤں میں بیداری پیدا کرنے کی کوشش کرنے والے ونود نے بتایا کہ پچھلی حکومت کی بات کریں تو وہ یہاں لائٹ نہیں پہنچا سکے، لیکن لیپ ٹاپ ضرور پہنچا دیا۔ اس گاؤں میں بجلی پہنچی بھی تو مرکزی حکومت کی بجلی پروجیکٹ کے ذریعے وہ بھی ایک ماہ پہلے۔

گاؤں کے طلبا نے نیوز 18 ہندی سے بات چیت میں بتایا کہ اس گاؤں میں بجلی نہیں تھی تب ہم لوگ ایک کلو میٹر دور دوسرے گاؤں میں سائیکل سے لیپ ٹاپ چارج کرنے کے لئے جاتے تھے۔ وہیں ایک طالبہ سرتا کا لیپ ٹاپ بھی چارجنگ کے دوران پھونک گیا۔ فی الحال، اب اس گاؤں میں بجلی 18 گھنٹے رہ رہی ہے۔ پورے گاؤں میں خوشی کی لہر ہے۔ اب گاؤں والوں سے لے کر بچے بھی شام کو پنکھے کے نیچے پڑھائی کرتے نظر آ رہے ہیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز