ایک ہاتھ میں قرآن، ایک میں لیپ ٹاپ، اسلئے مدارس میں پرچم کشائی اور قومی ترانے کی ضرورت: محسن رضا

Aug 16, 2017 10:03 AM IST | Updated on: Aug 16, 2017 10:03 AM IST

امیٹھی : اترپردیش کے اقلیتی فلاح و بہبود اور وقف کے ریاستی وزیر محسن رضا نے رسم پرچم کشائی اورقومی ترانہ گانے پر فتوی دینے والے عالم کو دو ٹوک کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی سوچ ہے کہ اقلیتی بچوں کے ایک ہاتھ میں قرآن اور ایک ہاتھ میں لیپ ٹاپ ہو۔ اس کے لئے مدارس میں پرچم کشائی اور قومی ترانہ گانے کی ضرورت ہے۔

امیٹھی کے انچارج وزیر مسٹر رضا نے رکشا بندھن پر انتظامیہ کی طرف سے چلائی گئی 'انوکھی امیٹھی کے انوکھے بھائی' اسکیم کی ایوارڈ تقسیم تقریب میں بطور مہمان خصوصی خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے پرچم کشائی اورقومی ترانہ گانے کے سلسلے میں کوئی نیا حکم نامہ جاری نہیں کیا اور نہ ہی کچھ ایسا لکھا ہے کہ جو مناسب نہیں ہے۔ کچھ لوگ بلاوجہ بات کا بتنگڑ بنا کر لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں۔ حکومت نے اسی تناظر میں یہ بھی ہدایات دی تھی کہ اس سے ملک کے ان ذہین بچوں کو جو مدرسوں میں رہ کر مرکزی دھارے سے کٹے تھے انہیں اس سے جوڑا جا سکے۔

ایک ہاتھ میں قرآن، ایک میں لیپ ٹاپ، اسلئے مدارس میں پرچم کشائی اور قومی ترانے کی ضرورت: محسن رضا

انہوں نے کہا کہ حکومت کی منشا تھی کہ مدارس میں جو طلبہ و طالبات آتی ہیں ان کو بھی پتہ چلنا چاہئے کہ ملک کی آزادی کیا ہوتی ہے۔ ملک کی آزادی میں کن لوگوں نے قربانی دی تھی وہ کون لوگ تھے. قومی ترانہ کیا ہے، اس میں کیا کہا جا رہا ہے ملک کے تعلق سے۔ یہی ایک ایسا تہوار ہے جس دن بچہ کھلونے اور ٹافي کی ضد نہیں کرتا بلکہ ترنگے کی ضد کرتا ہے تو اسے اس کے بارے میں علم ہونا چاہئے۔

مسٹر رضا نے کہا کہ ریاستی حکومت لااینڈ آرڈر اور بدعنوانی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔ انوکھی امیٹھی کے انوکھے بھائی اسکیم کے تحت ایوارڈ دیتے ہوئے انہوں نے ضلع انتظامیہ کی ستائش کی۔ انہوں نے اول انعام کے طور پر گوری گنج کے پهاڑپور رہائشی روہت کمار کو 50 ہزار روپے، دوسرے نمبر پر امیٹھی بلاک کے گھاگھوگھاٹ رہائشی آيوش تیواری کو 15 ہزار اور ایک موبائل اور تیسرے انعام کے طور پر گوری گنج کے پهاڑپور باشندہ نیرج شکلا کو 10 ہزار اور ایک گھڑی دی۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز