شیعہ اور سنی بورڈوں کا ہوگا ڈیجیٹلائزیشن ، وقف ایکٹ کے حساب سے رکھے جائیں گے متولی : محسن رضا

Jul 13, 2017 09:40 PM IST | Updated on: Jul 13, 2017 09:40 PM IST

لکھنو : اتر پردیش کی یوگی حکومت اور شیعہ وقف بورڈ اور سنی وقف بورڈ کے درمیان سب ٹھیک نہیں چل رہا ہے۔ ایک طرف یوگی حکومت نے دونوں ہی بورڈز میں بے ضابطگیوں کو لے کر سی بی آئی جانچ کی سفارش کی ہے، تو وہیں دوسری طرف حکومت کو اس وقت خفت کا سامنا کرنا پڑا جب الہ آباد ہائی کورٹ نے بورڈ کے ارکان کو ہٹانے سے متعلق یوگی حکومت کے فیصلہ کو رد کردیا اور سبھی کو بحال کرنے کا حکم سنایا ۔

اس کے بعد شیعہ بورڈ کی جانب سے اوقاف کے وزیر مملکت محسن رضا کو ایک وقف جائیداد کے معاملے میں نوٹس بھیج دیاگیا ، جس کے بعد سے حکومت اور شیعہ بورڈ میں الزام تراشی کا دور جاری ہے۔ انہی مسائل پر محسن رضا نے نیوز 18 سے کھل کر بات چیت کی۔

شیعہ اور سنی بورڈوں کا ہوگا ڈیجیٹلائزیشن ، وقف ایکٹ کے حساب سے رکھے جائیں گے متولی : محسن رضا

ایک طرف تنخواہ کیلئے پیسے نہیں، دوسری طرف کروڑوں کا کھیل

محسن رضا نے کہا کہ ہماری پوری کوشش ہے کہ سنی اور شیعہ دونوں ہی بورڈ جس سوچ کے ساتھ قائم کئے گئے تھے ، وہ وہی کام کریں۔ یہ بورڈ غریبوں کی مدد کے لئے قائم کئے گئے تھے نہ کہ کسی خاندان کے ٹرسٹ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مجھ پر کیا الزامات لگائے جاتے ہیں، میرا اس سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ جہاں ایک طرف وقف کی قیمتی زمینوں سے کروڑوں کا کھیل ہو رہا تھا، وہیں وقف بورڈ کے پاس ملازمین کو دینے کے لئے تنخواہ تک کے پیسے نہیں ہیں۔ میں نے خود تنخواہ دینے کے لئے وزیر اعلی سے 5 کروڑ روپے کا مطالبہ کیاہے۔

سابق حکومتوں کے وزراء کی بھی تھی ساز باز

محسن رضا نے کہا کہ جتنی بھی پرائم لوکیشن کی پراپرٹی تھی، تمام وقف کے قوانین کو مکمل طور پر نظر انداز کر فروخت کردی گئی۔ پوری ریاست سے اس طرح کی جعلسازی کی شکایتیں عرصے سے آ رہی تھیں، لیکن کسی نے کوئی توجہ نہیں دی۔ مسلسل دس سالوں سے لوگ بورڈز میں منجمد ہیں، بے ضابطگیاں ہو رہی ہیں، ایسے میں کہا جا سکتا ہے کہ سابق کی دونوں ہی حکومتوں کے وزیر بھی ملے ہوئے تھے۔ اگر ایسا نہیں تھا تو ان بے ضابطگیوں کی جانچ کیوں نہیں کرائی گئی؟ ہماری حکومت بنی ، تو ہم نے جانچ کا حکم دیا، اگر ہم جانچ نہیں کرائیں گے، تو پانچ سال بعد یہ ہی سوال ہم پر بھی اٹھنے لازمی ہیں۔

تقریبا 18000 وقف املاک غائب ہو گئیں

انہوں نے کہا کہ اس وقت ہمارے سامنے دو چیلنجز ہیں۔ ایک جن زمینوں میں گھپلے اور گھوٹالے ہوئے ہیں، ان کی جانچ کرائی جائے۔ دوسری جو باقی املاک ہیں، ان سے آمدنی کی راہیں نکالی جائیں، تاکہ غریبوں کی مدد ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے حکومت کو ایک تجویز یہ بھی دی ہے کہ وقف سے ہونے والی آمدنی سے تین طلاق متاثرہ خواتین کی بھی مدد کی جائے۔

انہوں نے کہا کہ اعداد و شمار کا عالم یہ ہے کہ سنی وقف بورڈ کے ذریعہ پہلے ہم سے تحریری طور پر میں یہ معلومات دی گئی کہ اتر پردیش میں تقریبا 1 لاکھ 27 ہزار سے زیادہ وقف کی املاک ہیں، وہیں اب ہمیں بتا یا جارہا ہے کہ ایک لاکھ 9 ہزار کے ارد گرد ہی وقف املاک ہیں۔ مطلب دو اعداد و شمار میں تقریبا 18 ہزار کا فرق ہے۔ یہ جائدادیں کہاں گئیں۔

شیعہ بورڈ کی 4000 سے زیادہ جائیدادیں غائب

وہیں شیعہ وقف بورڈ کی بات کریں تو تقریبا 7800 یا 7900 جائیدادوں کی معلومات دی گئی ہیں ۔ ان کی سرکاری ویب سائٹ کے مطابق 5600 وقف املاک ہیں۔ وہیں سی ڈبلیو سی کو جو رپورٹ انہوں نے دی ہے، اس میں بتایا ہے کہ کل 3000 کے ارد گرد ہی وقف املاک ہیں۔ یہ تمام معلومات انہوں نے ہی دی ہیں۔ اب ایسی صورت میں جانچ تو کرانی ہی پڑے گی۔ یہ کوئی ایک دو پراپرٹی کا مسئلہ نہیں ہے، ان میں کئی املاک ایسی ہیں، جن کی قیمت کروڑوں میں ہے۔

الزام لگانے والے بتائیں وقف بورڈ میں کیا تیار کیا؟

وزیر مملکت نے کہا کہ جانچ ہو رہی ہے، اس لیے اتنی چیخ وپکار مچی ہوئی ہے۔ میڈیا کا سہارا لے کر حملے کئے جا رہے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر آپ صحیح ہیں تو آپ نے وقف بورڈ میں کیا تیار کیا ہے۔ آپ نے اتنا ہی اچھا کام کیا ہے تو پھر ریاست بھر سے شکایات کیوں آ رہی ہیں۔

وقف املاک کا ہوگا ڈیجیٹلائیزیشن

انہوں نے کہا کہ ہم جانچ کرانے کے ساتھ ہی دونوں ہی بورڈز کو ڈیجیٹلائز کرنے جا رہے ہیں، جس کی کارروائی شروع ہو چکی ہے۔ یہی نہیں اب وقف ایکٹ کے حساب سے ہی متولی رکھے جائیں گے یا نکالے جائیں گے۔ پہلے بورڈ اپنی مرضی سے کسی کو بھی متولی رکھ لیتا تھا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز