بنارس ہندو یونیورسیٹی میں چھیڑٖخانی کے خلاف طالبات کی بھوک ہڑتال

وارانسی۔ بنارس ہندو یونیورسٹی (بی ایچ یو) میں چھیڑخانی کے خلاف کل صبح سے مسلسل دھرنا اور مظاہرہ کررہیں طالبات کا یونیورسٹی انتظامیہ کے تئیں غصہ بڑھتا جارہا ہے ۔

Sep 23, 2017 09:51 PM IST | Updated on: Sep 23, 2017 09:51 PM IST

وارانسی۔ بنارس ہندو یونیورسٹی (بی ایچ یو) میں چھیڑخانی کے خلاف کل صبح سے مسلسل دھرنا اور مظاہرہ کررہیں طالبات کا یونیورسٹی انتظامیہ کے تئیں غصہ بڑھتا جارہا ہے ۔طالبات آج یونیورسٹی کے صدر دروازے پر بھوک ہڑتال پر بیٹھ گئی ہیں۔ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر گریش چندر ترپاٹھی سے طالبات نے مطالبہ کیا ہے کہ وہ دھرنے کے مقام پر آکر انھیں سکیورٹی کی یقین دہانی کرائیں ،اس کے ساتھ ہی طالبات نے سہ پہر بھوک ہڑتال شروع کردی ۔سیکڑوں کی تعداد میں طالبات صدردروازے کو بندکرکے دھرنا اور مظاہرہ کررہی ہیں ۔

طالبات کا الزام ہے کہ وائس چانسلر کی رہائش گاہ سے چند قدم کے فاصلہ پر جمعرات شام کو بھی ایک طالبہ کے ساتھ چھیڑخانی کی گئی ۔اس بارے میں انھوں نے یونیورسٹی انتظامیہ سے شکایت کی تھی لیکن قصورواروں کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے افسران نے طالبات کو شام کے وقت ہوسٹل سے باہر نہ نکلنے کی نصیحت کی ۔طالبات کا کہنا ہے کہ اس معاملہ میں پراکٹر سے بھی کئی بار شکایتیں کی گئیں ،لیکن انھوں نے بھی اسی طرح کی نصیحت کرکے معاملے کو ٹال دیا ۔طالبات کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کے اس رویہ سے وہ پریشان ہیں ۔وہ خود کو غیر محفوظ محسوس کررہی ہیں ۔

بنارس ہندو یونیورسیٹی میں چھیڑٖخانی کے خلاف طالبات کی بھوک ہڑتال

طالبات کا الزام ہے کہ وائس چانسلر کی رہائش گاہ سے چند قدم کے فاصلہ پر جمعرات شام کو بھی ایک طالبہ کے ساتھ چھیڑخانی کی گئی ۔: فوٹو کریڈٹ جن ستا ڈاٹ کام۔

یونیورسٹی کے اطلاعات و رابطہ عامہ کے افسر ڈاکٹر راجیش سنگھ کا کہنا ہے یہ احتجاج سیاسی اغراض پر مبنی ہے ۔ پولیس نے شکایت کی بنیاد پر جانچ شروع کردی ہے اور وائس چانسلر طالبات کے وفد سے اپنے دفترمیں ملناچاہتے ہیں ۔ واضح رہے کہ طالبات کے احتجاج کی وجہ سے کل وزیر اعظم نریندر مودی کو درگا کنڈ مندر جانے کے لئے اپنے مقررہ راستے کو بدلنا پڑا تھا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز