وقف بورڈ کی آمدنی میں اضافہ کرکے یوگی حکومت مطلقہ خواتین کی کرے گی مدد

Jul 09, 2017 02:44 PM IST | Updated on: Jul 09, 2017 02:52 PM IST

لکھنؤ : اتر پردیش کی حکومت وقف بورڈ کی آمدنی بڑھاكر طلاق شدہ خواتین کی مدد کرنے پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔ ریاست کے اقلیتی بہبود اور حج کے وزیر مملکت محسن رضا نے کہا کہ ان کی حکومت وقف بورڈ کی آمدنی بڑھاكر طلاق شدہ خواتین کی مدد کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ان سے کئی ایسی خواتین ملی ہیں جن کی زندگی طلاق کی وجہ سے تباہ ہو گئی ہے۔ اس میں کئی خواتین سلائی اور دوسروں کے یہاں کام کرکے اپنی اور اپنے بچوں کی پرورش کر رہی ہیں۔

مسٹر رضا نے کہا کہ وقف بورڈ کی آمدنی بڑھتے ہی طلاق شدہ خواتین کے بچوں کی پڑھائی کا بندوبست کیا جائے گا۔انہیں اچھے اسکولوں میں داخلہ دلایا جائے گا۔ حوصلہ افزائی کی جائے گی کہ ایسی عورتوں اور ان کے بچے اپنے پیروں پر کھڑے ہو سکیں۔ اقلیتی بہبود کے وزیر مملکت نے کہا کہ شیعہ اور سنی وقف بورڈ میں بدعنوانی کا بول بالا ہے۔ شیعہ وقف بورڈ کو تو بدعنوانی نے کھوکھلی کر دیا ہے۔ اربوں کے املاک کا مالک شیعہ وقف بورڈ کے اکاؤنٹ میں پانچ لاکھ روپے بھی نہیں ہیں۔

وقف بورڈ کی آمدنی میں اضافہ کرکے یوگی حکومت مطلقہ خواتین کی کرے گی مدد

انہوں نے کہا کہ بدعنوانی کی تحقیقات تو ہوگی ہی، ساتھ میں آمدنی بڑھاكر طلاق شدہ خواتین اور ان کے بچوں کی پرورش میں مدد کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ دہلی میرٹھ شاہراہ پر وقف بورڈ کی اربوں روپے کی زمین کوڑیوں کے بھاؤ بیچ دی گئی۔ حکومت اس کی بھی تفتیش کرائے گی۔ مسٹر رضا نے کہا کہ دونوں وقف بورڈ میں ہندوستان کے خزانہ کنٹرولر اور آڈیٹر جنرل سے آڈٹ کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ بدعنوانی کی تحقیقات مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) سے کرائی جائے گی۔ ان دونوں جانچوں میں دودھ کا دودھ- پانی کا پانی ہو جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ بدعنوان لوگوں کو جیل جانا ہی پڑے گا۔ سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے قدآور لیڈر اعظم خاں پر بدعنوان لوگوں کو تحفظ دینے کا الزام لگاتے ہوئے مسٹر رضا نے کہا کہ تحقیقات تو مسٹر اعظم کی بھی ہو گی۔جس نے بھی وقف بورڈ کی جائیداد کو خرد برد کیا ہے، وہ بچیں گے نہیں۔ مسٹر رضا نے کہا کہ وقف بورڈ کے دفتر لوٹ کے اڈے بن گئے ہیں۔ شیعہ وقف بورڈ کے چیئرمین پر بہت سنگین الزامات ہیں۔ بہت سے مقدمے درج ہیں، لیکن وہ ابھی تک اپنے سیاسی رسوخ کی وجہ سے بچتے رہے۔ اس بار جانچ میں وہ بچ نہیں پائیں گے کیونکہ تفتیش کے دائرے میں ان کے سرپرست اعظم خاں بھی آ رہے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں حج کے وزیر مملکت نے کہا کہ حال ہی میں شیعہ وقف بورڈ کے چھ ارکان نے اپنی برطرفی کے خلاف الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بینچ سے حکم امتناعی لینے کا ڈھنڈورا پیٹا تھا جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یوگی حکومت بننے پر ایک عام حکم سے تمام نامزدگی مسترد کر دی گئی تھی۔وقف بورڈ میں بھی یہی حکم نافذ ہونا چاہیے تھا۔ اس کے لیے نہ تو الگ الگ حکم کیا جانا تھا اور نہ ہی کیا گیا۔ مسٹر رضا نے کہا کہ الگ الگ حکم نہیں ہونے پر حکم امتناعی کا سوال کہاں پیدا ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بورڈ کی مدت 2019 تک ہے۔ اس سے پہلے ہی بدعنوان بورڈ سے باہر ہوں گے۔ ان کا دعوی تھا کہ کئی بار تو 12 بجے تک دفتر کے تالے ہی نہیں کھلتے۔ انہوں نے کئی بار چیک کیا تو اب جاکر صورتحال تھوڑی بہتر ہوئی ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز