سونیا وہا ر میں نو تعمیر مسجد شہید کرنے کے شر انگیز واقعہ کی چوطرفہ مذمت ، پولیس پر بھی اٹھے سوالات

Jun 09, 2017 05:51 PM IST | Updated on: Jun 09, 2017 05:59 PM IST

نئی دہلی: کانگریس کے سینئر لیڈر اور مسلم انڈین کونسل کے چیئرمین انیس درانی نے نئی دہلی کے سونیا وہار میں گزشتہ روا ایک جائز او رمنظور شدہ مسجد کو منہدم کرنے کے شر انگیز واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ مسٹر درانی نے مسجد کی شہادت کے لئے فرقہ پرست عناصرکو مورد الزام ٹھہرایا اور متاثرین پر زور دیا کہ وہ ضبط سے کام لے کر ذمہ داران کو اس شرمناک حرکت کا نوٹس لینے کو موقع دیں او ررمضان میں امن و امان قائم رکھیں۔

کانگریسی لیڈرنے اس بنیاد پر کہ دہلی کے امور براہ راست وزارت داخلہ کے تحت ہیں وزیرداخلہ راج ناتھ سنگھ سے استعفی کی مانگ کی ہے اور وزیر اعلیٰ ارون کیجریوال کی جانب سے بھی عدم مداخلت پر ان کی نکتہ چینی کی ہے۔ ان کو بھی آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ دن دھاڑے کیسے مسجد شہید ہوتی رہی اور انہوں نے کوئی مداخلت نہیں کی۔ مسٹر درانی نے الزام لگا یا کہ مرکز میں بی جے پی کی حکومت قائم ہو جانے سےفرقہ وارانہ ذہن رکھنے والے شر پسندوں میں بظاہر جو بے خوفی پیدا ہوگئی ہے وہ تشویشناک ہے۔

سونیا وہا ر میں نو تعمیر مسجد شہید کرنے کے شر انگیز واقعہ کی چوطرفہ مذمت ، پولیس پر بھی اٹھے سوالات

photo : facebood

انہوں نے اس بات کی بھی حیرت ظاہر کہ مسجد منہدم کرنے کی جائے واردات پر پولس گھنٹوں نہیں پہنچ سکی حالانکہ سانحہ مسلسل سوشل میڈیا پر دیکھا جارہا تھا جس میں شرپسند گھنٹوں تک کدال ، پھاوڑے اور ہتھوڑوں سے مسجد کو شہید کرتے رہے۔ مسٹر درانی نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ پولیس کو ٹیلیفون پر واردات کی اطلاع دی جاتی رہی ، کمشنر آف دہلی پولیس سے ڈپٹی کمشنر ضلع تک سب کو حالات بتائے جاتے رہے مگر کسی کے جوں تک نہیں رینگی۔ خیال رہے کہ گزشتہ روز سونیا وہا میں ایک نوتعمیر مسجد کو شہید کردیا گیا ۔ کچھ ہندوتو وادی غنڈے جے شری کا نعرہ لگاتے ہوئے مسجد میں داخل ہوئے اور کلہاڑی اور ہتھوڑوں سے مسجد شہید کردی ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز