دہلی : بیشتر مدارس کے ذمہ داروں کا مدرسہ بورڈ کے قیام پر رضامندی کا اظہار

Mar 29, 2017 08:41 PM IST | Updated on: Mar 29, 2017 08:41 PM IST

نئی دہلی : ہمارے ملک میں بچوں کے حقوق کی حق تلفی زیادہ ہوتی ہے۔ اس کی روک تھام کے لئے قومی کمیشن برائے تحفظ حقوق اطفال نے جوئنائل جسٹس اورپوسکو ایکٹ نافذ کیا ہے تاکہ بچوں کے ساتھ ہونے والی نا انصافیوں کا سد باب کیا جاسکے۔ ان خیالات کا اظہارقومی کمیشن برائے تحفظ حقوق اطفال کی چئیر پرسن استوتی ککڑ نے کانسٹی ٹیوشن کلب دہلی میں کمیشن کی جانب سے منعقدہ ایک مشاورتی سیمینار کے دوران کیا۔

محترمہ ککڑ نے مزید کہا کہ جب تک بچوں کوآزاد ماحول دستیاب نہیں ہوتا، بچوں کی ذہنی ترقی بھی نہیں ہوتی۔بچوں کو ہنسنے،کھیلنے اور پڑھنے کے لئے ایک بہتر ماحول کی ضرورت ہوتی ہے۔والدین کا فرض ہے کہ وہ اپنے بچوں کو ایسا ہی ماحول فراہم کریں تاکہ وہ آزادی سے اپنے ہنر اور صلاحتیوں کا مظاہرہ کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ بہتر تعلیم کے حصول سے بچوں کا مستقبل روشن ہوتا ہے۔کثرت میں وحدت ہندستانی تہذیب کا ورثہ ہے۔انہوں نے درخواست کی کہ ہم اپنی تہذیب اور مذہب کی حفاطت کرتے ہوئے اپنے بچوں کو آگے بڑھنے کا موقع فراہم کریں۔اگر ہمارے بچوں کو موقع نہیں ملا تو وہ زمانے کی ترقی کے دوڑ میں پیچھے رہ جائیں گے۔

دہلی : بیشتر مدارس کے ذمہ داروں کا مدرسہ بورڈ کے قیام پر رضامندی کا اظہار

اس سیمینار میں دہلی و گرد و نواح کے پیشتر مدارس کے علما اوربڑی تعداد میں مدرسین و طلبا شریک تھے۔ کمیشن کے رکن پرینک قانون گو نے اس موقع پر کہا کہ مسلمانوں کاتعلیمی نظام دیڑھ ہزار سال پرانا ہے۔راجا رام موہن رائے،ڈاکٹر راجندر پرساد،منشی پریم چند نے مدارس میں ہی تعلیم حاصل کی تھی اور زندگی کے مختلف شعبہ حیات میں نام روشن کیا۔مولانا آزادکے ذریعے جاری کردہ مدارس کا نظام آج بھی تعلیم کا روشن چراغ بنے ہوئے ہیں لیکن افسوس کا مقام ہے کہ گزشتہ 70سال میں اقلیتی طبقہ تعلیم کے معاملہ میں پچھڑ گیا ہے یہ کیوں ہوا اس پر غور خوص کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا قومی نصاب تعلیم کے فریم ورک میں مدارس کے نصاب کا تذکرہ ندارد ہے!کیا یہ مدارس کے لئے نقصان دہ نہیں ہے۔آج یہ مشاورتی میٹنگ اسی لئے منعقد کی گئی ہے کہ ان حساس معاملات پر ہم کھلے دل سے مشورہ کریں ہم وعدہ کرتے ہیں کہ آپ کے خیالات کو بعینہ حکومت تک پہنچائیں گے۔ کمیشن کے ایک اور رکن یشونت جین نے کہا کہ کمیشن کی کوشش یہی کہ ملک کے ہر بچہ کو تعلیمی سہولت مہیا کرائی جائے اور مدارس اس بابت کیا سوچتے ہیں اسی سلسلے میں ہم نے پورے ملک میں ڈائیلاگ کا سلسلہ شروع کیا ہے،پہلے بھوپال،پھر ناگپور اور کڈپہ کے بعد ہم نے دہلی میں اس نوعیت کا پروگرام منعقد کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یتیم خانے جوئنائل جسٹس کے تحت آتے ہیں ان کے لئے ضروری ہے کہ وہ بال کلیان سمیتی کی پیشگی اجازت حاصل کرتے ہوئے اپنے یہاں بچوں کو داخلہ دیں،ہماری کوشش یہ ہے بچوں کے تحفظ کے لئے جو قانون بنائے گئے ہیں ان کا مکمل نفاذ ہو۔ انڈمان صوبہ سے کمیشن کی رکن روبینہ صدیقی نے اس موقع پر کہا کہ اسلام میں تعلیم کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ ہمیں بھلا اس کی اہمیت کون سمجھائے گا۔انہوں نے بتایا کہ مدرسہ کامطلب اسکول ہی ہیں لیکن نہ جانے کیوں اسکے معنی بدل دئے گئے۔انہوں نے کہ عرب ماہر سرجری الزہروی نے سرجری میں جوانسائیکلو پیڈیا لکھی ہے اسے ساری دنیا تسلیم کرتی ہے وہ خود مدرسہ کے طالب علم تھے۔اگر سی بی ایس سی،آئی بی ایس سی بورڈ ہو سکتا ہے تو مدرسہ بورڈ کیوں نہیں ہوسکتا۔

اس پروگرام کے ناظم ظم آر ٹی ای ایکٹ کے اسکالر شاہد شریف نے کہا کہ اقلتوں کی تعلیمی پالیسی پر حکومت کو زور دینا چاہیے جب تک پالیسی نہیں ہوگی تو کسی سماج کی ترقی کیسے ممکن ہوسکتی ہے۔ ممبئی میںآر ٹی ای کی سرگرم رکن نزہت فاطمہ نے اس موقع ممبئی کی میونسپل اسکولوں میں اردو کے طلبا کے ڈراپ آؤٹ پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ سال پانچ ہزار اردو طلبا ڈراپ آٹ کا شکار ہوئے ہیں۔یہ بچے مالی بحران کا شکار ہیں اسکول سے باہر نکلنے کے بعد وہ مزدوری کرنے لگتے ہیںیا پھر نشہ کی لت کا شکار ہوتے ہیں۔یہاں اقلیتی طلبا کی تعلیمی حالات انتہائی زار ہے۔

مفتی محمد خان نے اس موقع پر کہا کہ حکومت عربی مدارس سے فارغ ہونے والے فاضل کی ڈگری کو ایم اے اورعالم کی ڈگری کو بی اے،مولوی کی ڈگری کو بارہویں، قاری کو دسویں اور حافظ کو آٹھویں جماعت کے طور پر تسلیم کرے۔ انہوں نے مدارس سے گذارش کی وہ اپنے مدارس رجسٹرڈ کرائیں اور اپنا حساب آڈٹ کرائیں انہوں نے عربی مدارس میں انگلش،ہندی اور یاضی کی تعلیم پر بھی زور دیا۔مولانا ولی اللہ قاسمی نیاپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عربی مدارس کو اب حکومت کی مراعات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے طلبا کی تعلیمی ترقی پر دھیان دینا چاہئے اور کمیشن اس مد میں رابطہ کار کی حیثیت سے کام کر رہا ہے۔ انہوں نے مدارس میں انگلش ذریعہ تعلیم کو لازمی قرار دیا انہوں نے کہا دیگر زبانوں سے آشنائی اپنے دین کو دوسروں تک پہچانے کا بہترین ذریعہ بن سکتی ہے۔

اس سیمینار میں مولانا عبدالسمیع،مولانا تصورعلی مصباحی، اسلم صاحب،انعام الحق، و دیگر نے بھی کمیشن کو اس معاملہ میں اپنے قیمتی مشورے دےئے اور بیشتر مدارس کے ذمہ داروں نے مدرسہ بورڈ کے قیام پر رضامندی کا اظہار کیا۔مدرسہ کے طلبا اور طالبات نے نعتیہ کلام اور مدارس کے حالات بیان کئے اور انگریزی تعلیم اور کمپیوٹر کی ضرروت پر بھی زور دیا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز