Live Results Assembly Elections 2018

غلط واقعات اور اسلاف سے متعلق غلط فہمی پیدا کرنے والی روایات سے بچنے کی ضرورت : مولانا محمد رحمانی مدنی

محرم کے مبارک مہینہ میں اللہ رب العالمین نے فرعون کے ظلم وجور سے موسی علیہ السلام کو نجات دی تھی ، یہ اسلامی سال کا پہلا مہینہ ہے، اللہ رب العالمین نے اس مبارک ماہ میں اپنے اوپر ظلم کرنے سے سختی کے ساتھ روکا ہے

Sep 29, 2017 09:49 PM IST | Updated on: Sep 29, 2017 09:49 PM IST

نئی دہلی : محرم کے مبارک مہینہ میں اللہ رب العالمین نے فرعون کے ظلم وجور سے موسی علیہ السلام کو نجات دی تھی ، یہ اسلامی سال کا پہلا مہینہ ہے، اللہ رب العالمین نے اس مبارک ماہ میں اپنے اوپر ظلم کرنے سے سختی کے ساتھ روکا ہے ، اس عظیم مہینہ کا تعلق ہمارے نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت سے ہے، ہجرت کی عظمت اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت مبارکہ اور پوری تاریخ نیز صحابہ کرام اور اسلاف امت کی تاریخ کی وابستگی اور اس کی عظمت وتقدس اسی مبارک مہینہ سے جڑے ہوئے ہیں۔ ہمیں اس مہینہ اور پورے اسلامی سال کا مکمل احترام کرنا چاہئے اور خوب توجہ اور زیرکی کے ساتھ اپنی تاریخ کو زندہ رکھنے کی بھر پور سعی کرنی چاہئے۔محرم الحرام کا مہینہ قرآن وسنت کی تعلیمات کی روشنی میں پورے سال کی پلاننگ، اسلاف کی حقیقی تاریخ کو یاد کرنے اور اسلام دشمنوں کی مخالفت کرنے کا مہینہ ہے۔اسلام نے ہمیں روز اول ہی سے صاف شفاف تاریخ سے وابستہ کررکھا ہے، لہذا ہماری ذمہ داری بھی اسلامی سال کے تقدس اور عظمت کی طرح عظیم ہے۔

ان خیالات کا اظہار ابوالکلام آزاد اسلامک اویکننگ سنٹر، نئی دہلی کے صدرجناب مولانا محمد رحمانی سنابلی مدنی نے سنٹرکی جامع مسجد ابوبکر صدیق، جوگابائی میں خطبۂ جمعہ کے دوران کیا۔ مولانا محرم الحرام کی شرعی حیثیت سے متعلق تاریخی حقائق اور احکام ومسائل پر تفصیلی گفتگو فرمارہے تھے۔مولانا نے فرمایا کہ محرم کی نو اور دس تاریخ کو روزہ کا اہتمام کرنا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تاکیدی سنت ہے اس کے ذریعہ ایک سال کے پچھلے صغیرہ گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔

غلط واقعات اور اسلاف سے متعلق غلط فہمی پیدا کرنے والی روایات سے بچنے کی ضرورت : مولانا محمد رحمانی مدنی

خطیب محترم نے مزید فرمایا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے محرم کے روزوں کو یہودیوں کے طریقہ سے ہٹ کررکھنے کا حکم دیا ہے تاکہ ان کی مخالفت کی جائے نیز اسلاف کی تاریخ کو زندہ رکھنے کے لئے اسے مسنون قرار دیا تاکہ ہم اپنی تاریخ سے غافل نہ ہوجائیں ، اس وجہ سے ہمیں اسلام اور اس کی تعلیمات کی بارکیوں سے بھر پور فائدہ اٹھانا چاہئے اور ہر قسم کی غلط رسم ورواج سے توبہ کرکے پاکیزگی اختیار کرنی چاہئے اور خالص اسلامی زندگی گزار کر سچا مسلمان بننے کی سعی کرنی چاہئے۔

مولانا موصوف نے حسن وحسین رضی اللہ عنہما کے فضائل پر بھی گفتگو فرمائی اور ان سے محبت کو ایمان کا لازمی جزء قرار دیا لیکن ساتھ ہی ان سے متعلق تاریخی نزاکتوں پر بھی روشنی ڈالی اور فرمایا کہ ۳۵۱ھ سے ہی جس انداز سے حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت پر خرافات کو رواج دینے کی کوشش کی جارہی ہے یہ سب غیر اسلامی ہیں ، اسلام ماتم وشیون کی بالکل اجازت نہیں دیتا ۔ حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کا واقعہ یقینا الم ناک ہے لیکن اسے اسلامی طریقہ سے سوچاجانا چاہئے، غلط روایات بیان کرکے حقائق تبدیل نہیں کئے جانے چاہئے، تعزیہ بنانا اس کا طواف کرنا، اس سے منتیں مانگنا، چہرہ پیٹنا اور اپنے آپ کو زنجیروں اور آگ کے انگاروں سے زخمی کرنا، محرم کے مہینہ میں شادی بیاہ کو حرام سمجھنا،اور بہت سی ایسی چیزیں ہیں جو محرم کے مہینہ میں انجام دی جاتی ہیں جب کہ ان چیزوں کا ثبوت نہ قرآن مجید سے ہے نہ سنت رسول سے اور نہ ہی وہ چیزخیرالقرون میں تھی، اور نہ ہی ایسا ائمہ اربعہ اور محدثین نے کیا اور نہ کرنے کو کہااور نہ ہی امت اسلامیہ کے کسی بھی معتبر عالم دین کوئی ایسا کرنے کا حکم دیا ہے ۔اس وجہ سے ہمیں ان چیزوں سے بچنا چاہئے۔

Loading...

مولانا نے مزید فرمایا کہ ہمیں حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کے دردناک حادثہ کو تاریخ طبری اور البدایہ والنہایہ کے حوالوں سے سمجھنا چاہئے، جس نے جرم کیا اسے یقینا مجرم سمجھنا چاہئے لیکن جرم کی نسبت دوسروں کی جانب کرنا بھی ظلم ہے، لہذا اس سے بچنا ہماری ذمہ داری ہے کیوں اس سلسلہ میں عام طور سے برصغیر کے مسلمان غلط عقائد کے حامل ہیں اور غلط بیانی سے متاثر ہیں اس لئے انہیں حقائق سے آگاہ کرنے کی ضرورت ہے۔اخیر میں مولانا نے مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ لعن طعن اور تبربازی اور ماتم وشیون کے مزاج سے باہر نکلیں اور اسلامی تعلیمات کو اختیار کریں۔اس کے بعد دعائیہ کلمات پر خطبہ ختم ہوا۔

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز