ضرورت کیلئے تو صحیح ، مگر تفریح اور فیشن کیلئے تصویروں کا استعمال اسلام میں مناسب نہیں : مفتی ابوالقاسم نعمانی

Oct 19, 2017 07:26 PM IST | Updated on: Oct 20, 2017 09:23 AM IST

دیوبند: دارالعلوم دیوبند کے مہتمم مفتی ابوالقاسم نعمانی نے دارالعلوم دیوبند کے اس فتوی کی حمایت کی ہے ، جس میں دار العلوم نے کہا ہے کہ اسلام میں خواتین کا وہائٹس ایپ، فیس بک اور ٹوئٹر جیسے سوشل میڈیا پر تصویر اپ لوڈ کرنا جائز نہیں ہے۔ خیال رہے کہ ایک شخص نے دارالعلوم کے شعبہ فتوی سے سوال کیا تھا کہ کیا مردوں کا اپنی خواتین کے ساتھ وہاٹس ایپ ، ٹوئٹر اور فیس بک پر تصویر ڈالنا جائز ہے۔ اس کے جواب میں کہا گیا ہے کہ ایسا کرنا جائز نہیں ہے۔

دارالعلوم کے مہتمم مفتی ابوالقاسم نعمانی کا کہنا ہے کہ اسلام میں تصویراتروانا اور اس کا غیر ضروری استعمال درست نہیں سمجھا گیا ہے۔ قانونی ضرورتوں کے لئے مثلاً پاسپورٹ، اسکول ، کالج وغیرہ میں داخلہ اور دیگر ضروری امور میں تصویر کا استعمال تو درست ہے لیکن تفریح اور فیشن پرستی کے لئے تصویروں کا استعمال مناسب نہیں سمجھا جاتا ہے۔

ضرورت کیلئے تو صحیح ، مگر تفریح اور فیشن کیلئے تصویروں کا استعمال اسلام میں مناسب نہیں : مفتی ابوالقاسم نعمانی

مولانا نعمانی نے کہا کہ اب جب کہ آج کے دور میں یہ چیزیں عام زندگی کا حصہ ہوگئی ہیں ، انہیں روکنا تو ممکن نہیں ہے لیکن مذہبی اعتبار سے اسے درست نہیں کہا جاسکتا۔ ایک دیگر مدرسہ جامعہ حسینیہ کے مفتی طارق قاسمی نے دارالعلوم کے فتوے کی حمایت کی ہے۔

دوسری طرف سماجی کارکن بدر کاظمی کا کہنا ہے کہ اس طرح کا فتوی جاری کرنے کی ضرورت نہیں ہے کیوں کہ تمام تعلیم یافتہ افراد اس کا سمجھداری سے استعمال کرتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کی آزادی پر غیر ضروری پابندی لگانے سے جگ ہنسائی ہوتی ہے ا س سے بچنا بہتر ہوگا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز