خطہ سیمانچل ہی نہیں پورا بہار ’ایک گاندھی ‘سے محروم ہو گیا، تسلیم الدین کے انتقال پر مفتی محفوظ الرحمن عثمانی کا اظہار تعزیت

Sep 17, 2017 08:43 PM IST | Updated on: Sep 17, 2017 08:43 PM IST

نئی دہلی: آج خطہ سیمانچل ہی نہیں پورا بہار ’ایک گاندھی ‘سے محروم ہو گیا،راشٹریہ جنتادل کے سینئر رہنما و ممبرپارلیمنٹ محمد تسلیم الدین کے انتقال پرملال پر معروف عالم دین وملی رہنما مفتی محفوظ الرحمن عثمانی نے ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئےکہاکہ سیمانچل کے لیے ان کی خدمات ناقابل فراموش ہیں،ہم نے ایک مضبوط سیاسی و سماجی لیڈر کو کھو دیا۔

اسلامک ایجوکیشنل ویلفئر ٹرسٹ انڈیا کے نئی دہلی واقع آفس سے جاری تعزیتی بیان میں مفتی عثمانی نے کہاکہ چاہئے و ہ علاقے کےفلاح و بہبود کا معاملہ ہو یاملت کے سنگین مسائل کے حل کا معاملہ ہو تسلیم الدین صاحب ایک مرد آہن کی طرح سینہ سپر ہو جاتے تھے۔انہوں نے کبھی حالات سے سمجھوتہ نہیں کیا،قوم و ملت کو جب ان کی ضرورت پڑی وہ پیچھے نہیں ہٹے۔جامعۃ القاسم دارلعلوم الاسلامیہ سپول اور دوسرے دینی مدارس پر دشمنوں کی طرف سے اٹھائی جانے والی آواز کو انہوں نےبڑی حکمت سے دبائی اور کبھی مدارس و مساجد پر آنچ نہ آنے دی،وہ دینی و ملی کاموں میں بڑی سرگرمی سے حصہ لیتے تھے اور ہر ممکن اپنا تعاون پیش کرتے تھے۔

خطہ سیمانچل ہی نہیں پورا بہار ’ایک گاندھی ‘سے محروم ہو گیا، تسلیم الدین کے انتقال پر مفتی محفوظ الرحمن عثمانی کا اظہار تعزیت

مفتی محفوظ الرحمن عثمانی نے کہاکہ الحاج محمد تسلیم الدین ایک قدر آور ،بیباک ،جری اور ملک وملت کے خیرخواہ لیڈر تھے ، 50 سالوں سے زائد عرصہ تک انہوں نے سیاست کی ہے ،پنچایت اور مکھیا سے انہوں نے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز کیا اور سات مرتبہ ایم ایل اے رہے ،پانچ مرتبہ ایم پی رہے اس کے علاوہ بہار اور مرکز میں وزیر کی حیثیت سے انہوں نے عوام کیلئے حق وانصاف کی جنگ لڑی،بلاشبہ ایسے بیباک اور جری لیڈر کی وفات ملک وملت کا عظیم خسارہ ہے ۔مفتی عثمانی نے مزید کہاکہ ڈاکٹر تسلیم الدین سے میرے گہرے تعلقات تھے ،جامعہ القاسم کے خیرخواہوں میں تھے اور ملک وملت کے عظیم سیاسی قائدتھے ،ایسے جری لیڈر صدیوں میں پیداہوتے ہیں جو اپنے پیچھے ہزاروں یادوچھوڑجاتے ہیں،سیمانچل کی ترقی کیلئے ہمیشہ وہ کوشاں رہے اور سیمانچل گاندھی کے نام سے مشہور تھے ۔

مفتی عثمانی نے اپنے گہرے صدمے کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ الحاج تسلیم الدین کی وفات سے جہاں پورا ملک سوگوار ہے وہیں مجھے بھی ذاتی طور پر صدمہ ہواہے ۔انہوں نے کہاکہ وفات کی خبر ملتے ہی جامعۃ القاسم میں ایصا ل ثواب کی مجلس منعقد کی گئی اور طلبہ واساتذہ نے مرحوم کی مغفرت ،بلندی درجات اور پسماندگان کیلئے صبر جمیل کی دعاء کی ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز