بابری مسجد معاملہ میں ہندوستان کے آئین کے مطابق ہو فیصلہ : مفتی محفوظ الرحمن عثمانی

Mar 22, 2017 09:21 PM IST | Updated on: Mar 22, 2017 09:22 PM IST

نئی دہلی: بابری مسجد۔رام جنم بھومی کیس میں سپریم کورٹ کو ہندوستان کے آئین کے مطابق فیصلہ کرنا چاہئے،ملک کے مسلمان عدالت عظمیٰ سے انصاف کی امید رکھتے ہوئےبرسوں سے اس دن کا انتظار کر رہےہیں۔ ا ن خیالات کا اظہار معروف عالم دین و ممتازملی رہنما مفتی محفوظ الرحمن عثمانی بانی و مہتمم جامعۃ القاسم دارالعلوم الاسلامیہ سپول بہار نے کیا۔ انہوں نے سپریم کورٹ کے حالیہ مشورہ پر تبصرہ کرتے ہوئے مزید کہا کہ ماضی میں اس طرح کی جتنی بھی کوششیں ہوئیں، وہ سب کی سب ناکام رہی ہیں اس لئے عدالت کو ثبوتوں اور گواہوں کی بنیاد پر قانون کے تحت فیصلہ سنانا چاہئے ۔

مفتی عثمانی نے کہاکہ اگر باہمی گفت و شنید کے ذریعہ اس مسئلہ کا حل نکلتا تو اب تک یہ تنازع حل ہوچکا  ہوتا۔ اس تعلق سے ملک کی ملی تنظیموں کا موقف بالکل درست ہےکہ جو بھی ہو فیصلہ عدالت کا ہی قبول کریں گے اس موقف سے سمجھوتہ کسی بھی طرح صحیح نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ جس جگہ ایک بار مسجد بن جاتی ہے وہ جگہ تاقیامت مسجد کی ہی رہے گی، اسے نہ تو کسی مصرف میں لایا جا سکتا ہے اور نہ ہی اسے فروخت کیا جاسکتا ہے۔

بابری مسجد معاملہ میں ہندوستان کے آئین کے مطابق ہو فیصلہ : مفتی محفوظ الرحمن عثمانی

مفتی محفوظ الرحمن عثمانی نےاظہار افسوس کرتے ہوئے کہاکہ تاریخی بابری مسجد کو شہید کرنے والوں کے خلاف آج تک کارروائی نہیں ہوسکی۔ لال کرشن اڈوانی، اوما بھارتی، مرلی منوہر جوشی سمیت حکمراں جماعت بی جے پی اور وی ایچ پی کے درجنوں لیڈروں کے خلاف کافی ثبوت ہونے کے باوجود وہ بے گناہ ہیں۔انہوں نے کہاکہ سپریم کور ٹ ان ملزمین کے خلاف مقدمہ دوبارہ چلانے کی اجازت دے تاکہ متاثرین کو انصاف ملے ،ہندوستان جیسے ملک میں انصاف کا خون جمہوریت و آئین پر بدنما داغ ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز