اگلے سال عازمین کی سفر حج پر بحری راستہ سے روانگی کیلئے سعودی عرب اور حکومت ہند میں بات چیت جاری

اقلیتی امور کے وزیرمملکت مختار عباس نقوی نے آج کہا کہ نئی حج پالیسی 2018 کا اسی مہینہ اعلان کیا جائے گا اور اگلے مہینہ تک بحری راستہ سے حج مسافروں کو حج پر بھیجنے کا بندوبست کرنے کے لئے سعودی عرب کی حکومت اور جہاز رانی کی وزارت کے ساتھ بات چیت چل رہی ہے

Aug 16, 2017 05:49 PM IST | Updated on: Aug 16, 2017 09:06 PM IST

نئی دہلی: اقلیتی امور کے وزیرمملکت مختار عباس نقوی نے آج کہا کہ نئی حج پالیسی 2018 کا اسی مہینہ اعلان کیا جائے گا اور اگلے مہینہ تک بحری راستہ سے حج مسافروں کو حج پر بھیجنے کا بندوبست کرنے کے لئے سعودی عرب کی حکومت اور جہاز رانی کی وزارت کے ساتھ بات چیت چل رہی ہے۔ مسٹر نقوی نے یہاں ہندوستان میں سعودی عرب کے سفیر سعود محمد الساتی کے ساتھ ملاقات کے بعد نامہ نگاروں سے کہا کہ اگلے سال سے حج اس نئی حج پالیسی کے مطابق ہی کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حج پالیسی ۔2018 طے کرنے کے لئے اعلی سطحی کمیٹی اپنی رپورٹ تیار کرنے کے آخری مرحلے میں ہے۔

انہوں نے کہا کہ نئی حج پالیسی کا مقصد حج کے مکمل عمل کو آسان اور شفاف بنانا ہے اور اس نئی پالیسی میں حج مسافروں کے لئے مختلف خصوصیات کا پورا خیال رکھا جائے گا۔ مسٹر نقوی نے کہا کہ نئی حج پالیسی کے اہم نکات میں بحری راستے سے حج کے سفر کو دوبارہ شروع کرنا شامل ہے اور اس سلسلے میں عمل کو آگے بڑھانے کے لئے 28 اگست کو جہاز رانی کے مرکزی وزیر نتن گڈکری کی قیادت میں ایک اعلی سطحی میٹنگ ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ بحری راستے سے حج کے سلسلے میں سعودی عرب کی حکومت سے بھی بات چیت کا عمل جاری ہے۔

اگلے سال عازمین کی سفر حج پر بحری راستہ سے روانگی کیلئے سعودی عرب اور حکومت ہند میں بات چیت جاری

مسٹر نقوی نے کہا کہ سعودی عرب کے تعاون سے اس سال حج اچھے طریقہ سے چل رہا ہے، جس کے لئے وہ وہاں کی حکومت کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب میں ترقی کے کام چل رہے ہیں۔ ان کے مکمل ہو جانے کے بعد جہاز سے جانے والے عازمین حج کو وہاں بلیٹ ٹرین کی سہولت دستیاب ہو جائے گی اور وہ براہ راست اپنی منزل تک پہنچ سکیں گے۔

وقف کی زمینوں سے قبرستانوں کو ہٹا کر زمینیں ہڑپے جانے کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر انہوں نے کہا کہ وقف کی زمینوں سے قبروں کا غائب ہونا کسی اجوبے سے کم نہیں ہے۔ ان معاملات کی تحقیقات کرائی جائے گی اور قصورواروں کو مناسب سزا دی جائے گی۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز