اقلیتوں کے لئے عام بجٹ میں395کروڑ روپے کا اضافہ مودی حکومت کا قابل تحسین قدم : نقوی

Feb 01, 2017 04:23 PM IST | Updated on: Feb 01, 2017 04:23 PM IST

نئی دہلی۔ مرکزی وزیر مملکت برائے اقلیتی امور (آزادانہ چارج) مختار عباس نقوی نے آج پارلیمنٹ میں پیش کردہ عام بجٹ کے دوران اقلیتوں کی بہبود کی مختلف اسکیموں کے بجٹ میں 395کروڑ روپے کے اضافے کا خیرمقدم کیا ہے۔ مسٹر نقوی نے آج یہاں ایک بیان میں کہا کہ کئی برس کے بعد اقلیتوں کے بجٹ میں اتنے بڑے پیمانے پر اضافہ کیاگیا ہے۔ اس اضافے سے اقلیتوں کے لئے بہبودی اسکیموں کو مزید کارگرطریقے سے نافذ کرنے میں کافی مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتوں کے بجٹ میں اضافہ کرنا مودی حکومت کا قابل تحسین قدم ہے، جس سے اقلیتوں کی تیز رفتار بہبودی اسکیموں کے نفاذ میں مزید آسانی ہوگی۔ خیال رہے کہ اقلیتوں کے لئے مختص بجٹ اب تک 3800کروڑ روپے تھا جو 395 کروڑ کے اضافے کے ساتھ اب 4195کروڑ روپے ہوگیا ہے۔ اس سے پہلے 2012-13میں اقلیتوں کے لئے مختص بجٹ 3135کروڑ، 2013-14میں 3511کروڑ،2014-15میں 3411کروڑ، 2015-16 میں 3712کروڑ، 2016-17میں 3800کڑوڑ اور آج پیش کردہ بجٹ میں اقلیتوں کے بجٹ میں 395 کروڑ کے اضافے کے ساتھ اب یہ بجٹ 4195.48 کروڑ روپے ہوگیا ہے۔

واضح رہے کہ مرکز کی مودی حکومت وزارت اقلیتی امور کے ذریعہ اقلیتوں کی بہبود کے لئے کئی اسکیمیں چلارہی ہے جن میں سیکھو اور کماؤ، نئی منزل، نئی روشنی، اسکل ڈیولپمنٹ، مولانا آزاد نیشنل اکیڈمی فار اسکلس، اقلیتی طلبا و طالبات کے لئے اسکالرشپ، پڑھوپردیش، نئی اڑان، مولانا آزاد ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے علاوہ اقلیتی طلبہ و طالبات کو اعلی و پیشہ ورانہ تعلیم حاصل کرنے کے لئے آسان شرطوں پر قرض دینے کا منصوبہ بھی چلا رہی ہے۔ وزیر مملکت مختار عباس نقوی کی زیر قیادت وزارت اقلیتی امور اقلیتوں کی فلاح اور ہمہ جہت ترقی کے لئے تیز رفتاری کے ساتھ کام کررہی ہے۔اس نے تمام سطحوں پر اسکالرشپ کے ذریعہ اقلیتوں کی تعلیم کو سب سے زیادہ اہمیت دی گئی ہے۔ وزارت اقلیتی امور 10 ویں سے پہلے اور دسویں کے بعد میرٹ کی بنیاد پر اسکالر شپ اور مولانا آزاد نیشنل فیلو شپ کے ذریعہ تعلیمی اعتبار سے بااختیار بنانے کی بھرپور کوشش کررہی ہے۔

اقلیتوں کے لئے عام بجٹ میں395کروڑ روپے کا اضافہ مودی حکومت کا قابل تحسین قدم : نقوی

فائل فوٹو

اقلیتوں کو ہنرمند بنانے کے لئے بھی وہ وقتا فوقتا کئی اسکیمیں بناتی رہتی ہے۔وزات اقلیتی امور نے نئی روشنی نامی اسکیم سے خواتین کو بااختیار بنانے کا پروگرام چلارہی ہے۔ اسی طرح مدرسے کے فارغ التحصیل طلبہ کو ہنرمند بنانے کے لئے نئی منزل اسکیم چلائی جا رہی ہے جس کا مقصد طلبہ کو دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ انہیں دنیاوی تعلیم اور اسکل ڈیولپمنٹ کی تربیت دے کر روزگار کے قابل بنانا ہے تاکہ وہ سماج میں باعزت زندگی گزار سکیں اور ملک کی ترقی میں حصہ دار بن سکیں۔

وزارت اقلیتی امور اقلیتی برادری کے طلباء کے لئے مفت کوچنگ کا بھی اہتمام کرتی ہے جس کے ذریعے طلبہ کو یونین پبلک سروس کمیشن (یو پی ایس سی)،اسٹاف سیلیکشن کمیشن(ایس ایس سی) اور ریاستی پبلک سروس کمیشن (ایس پی ایس سی) کے ابتدائی امتحانات میں حصہ لینے کے لئے مالی مدد بھی فراہم کرتی ہے۔ دستکاروں اور ہنر مندوں کے لئے امکانات کے نئے دروازے کھولنے کے لئے اقلیتی امور کی وزارت ایک مربوط اسکیم ’استاد‘چلارہی ہے جس کا مقصد پشت درپشت چلی آرہی روایتی ہنرمندیوں کو بچانا ہے۔ روایتی فنون اور دستکاری کے حق میں امکانات کے نئے دروازے کھولنے کے لئے یہ اسکیم بہت اہم ہے۔اس کا آغاز قالین اور ساڑیوں کے لئے ہندستان کے مشہور مقام بنارس سے ہواتھا جو وزیر اعظم نریندر مودی کا پارلیمانی حلقہ انتخاب بھی ہے۔ ان تمام اسکیموں کے ذریعہ وزارت اقلیتی امور اقلیتی فرقے کے نوجوانوں اور خاص طور پر لڑکیوں کو بلاامتیاز تعلیم اور روز گار کے حصول کو یقینی بنانے اورانہیں روزگار کے قابل بنانے کے لئے بھرپور اقدام کررہی ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز