ملائم نے کھیلا مسلم کارڈ، کہا، اکھلیش نے مسلمانوں کے لئے کوئی کام نہیں کیا

Jan 16, 2017 03:34 PM IST | Updated on: Jan 16, 2017 03:34 PM IST

لکھنؤ۔ سماج وادی پارٹی میں جاری گھمسان آج نئی اونچائی تک پہنچ گیا۔ آج ملائم سنگھ نے مسلم کارڈ کھیلتے ہوئے بیٹے اکھلیش یادو کو مسلم مخالف ہی بتا دیا۔ کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے ملائم نے اکھلیش کو جم کر سنایا اور کہا کہ وہ (اکھلیش) میری بات سننے کو تیار نہیں ہیں۔

خطاب کے دوران ملائم سنگھ یادو کے سامنے کئی کارکن رو رہے تھے۔ کارکنوں نے ملائم سے کہا کہ سائیکل بچا لو نیتا جی، آپ بڑے ہیں۔ اس پر ملائم نے کارکنوں سے کہا کہ ڈرامہ مت کرو۔ ملائم نے کارکنوں سے کہا کہ اب چار بجے الیکشن کمیشن کا فیصلہ آئے گا تو پتہ چلے گا کہ کیا ہوگا۔

ملائم نے کھیلا مسلم کارڈ، کہا، اکھلیش نے مسلمانوں کے لئے کوئی کام نہیں کیا

گیٹی امیجیز

ملائم نے کارکنوں سے کہا کہ اکھلیش بات ہی نہیں سنتا ہے۔ کتنی بار اس کو بلایا آتا ہی نہیں، سنتا ہی نہیں ہے۔ ملائم نے کہا کہ اکھلیش نے مسلم مخالفت میں کام کیا۔ ایک مولانا نے مجھے بتایا۔ اکھلیش نے مسلمانوں کے لئے کوئی کام نہیں کیا۔

میں نے جاويد احمد کو ڈی جی پی بنایا، اکھلیش نے اس کی بھی مخالفت کی۔ اکھلیش نے بڑے بڑے لیڈروں کو نکال دیا۔ بلرام، امبیکا، شاداب، شیو پال کو اکھلیش نے نکال دیا۔ میری مدد کرئے، جو بھی نشان مجھے ملے، اب الیکشن کمیشن کے ہاتھ میں ہے۔ میری حکومت بنائیں۔ مسلم بھائیوں آپ کی ہم مدد کریں گے۔

ملائم نے کہا، اکھلیش میری بات نہیں سنتا ہے۔ اکھلیش اپنے والد کی نہیں، چچا کی بات سن رہا ہے۔ کسی نے اپنے بیٹے کو سیاست میں اتنا بڑا عہدہ نہیں دیا۔ میں نے سی ایم بنا دیا۔ سب لوگوں کی مخالفت تھی لیکن میں نے زبردستی اکھلیش کو وزیر اعلی بنایا۔

ملائم نے کہا کہ جب میں نے کہا کہ مسجد نہیں گرنے دوں گا۔ میں نے مسجد بچائی، بعد میں بی جے پی کی حکومت بنی تو انہوں نے مسجد گرا دی۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز