نوگڑھ میں گریٹ انڈیا ویلفیئر فاؤنڈیشن کی جانب سے مشاعرہ و کوی سمیلن کا انعقاد

Jan 05, 2017 11:18 AM IST | Updated on: Jan 05, 2017 11:24 AM IST

نوگڑھ ۔ ’’ یہ  بات ہمیشہ سے مسلم رہی ہے کہ ہر زندہ دل قوم اپنے اسلاف کی پیروی کرتی ہے  اور ان کے نقش قدم کو سامنے رکھ کر اپنا نصب العین متعین کرتی ہے  لیکن افسوس آج ہماری ملت نے اپنے بزرگوں کو نہ صرف فراموش کر دیا ہے  بلکہ ان کی ناقدری کی ہے اور یہی  سبب ہے کہ آج عظمت و شوکت کے بجائے ذلت ورسوائی اس قوم کا  مقدر بن گئی ہے۔  جو قوم کبھی غیروں کا مقدر بدلتی تھی آج وہ نجومیوں کے دربار اور ان کی خانقاہوں کی خاک چھاننے پر مجبور ہے‘‘ ۔ مذکورہ بالا خیالات کا اظہار  ضلع سدھارتھ  نگر کے نوگڑھ میں گریٹ انڈیا ویلفیئر فاؤنڈیشن کی  جانب سے قاضی عدیل عباسی (مرحوم) کی یاد میں منعقد "مشاعرہ و کوی سمیلن  " میں تنظیم کے چیئرمین جناب نوراللہ خان نے کیا۔ مسٹر خان نے تمام شعراء اور کویوں کا پرزور استقبال کرتے ہوئے تنظیم کے جملہ کارکنان کا شکریہ بھی ادا کیا۔

نوگڑھ میں گریٹ انڈیا ویلفیئر فاؤنڈیشن کی جانب سے مشاعرہ و کوی سمیلن کا انعقاد

تنظیم کی سرگرمیوں سے سامعین کو متعارف کراتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ آج عباسی صاحب کے کارناموں کو زندہ رکھنے کیلئے ان کو جاننا ضروری ہے تاکہ انھوں نے بے مثال سیاست وصحافت کے علاوہ جن مکاتب اور اسکولوں کا قیام کیا تھا ان کو برقرار رکھا جا سکے اور ساتھ ہی عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق ان کا معیار بھی ملحوظ خاطر رہے۔

 مولانا رفیع نعمانی کی تلاوت کلام پاک  سے مشاعرہ کا باقاعدہ  آغاز ہوا اور ساتھ ہی معروف نعت گو شاعر جناب عیسی بلال فیضی کے نعتیہ کلام سے محفل میں ایک روحانی سماں بندھ گیا۔ مشاعرہ میں موجود شعراء کی لمبی تعداد نے اپنا کلام پیش کیا۔

مشہورشعراء کے کلام پیش خدمت ہیں۔

نام لکھتا ہے میرا اور مٹا دیتاہے 

میرے مالک یہ مجھے کیسی سزا دیتا ھے ۔  

جنید بستوی 

ان کی تصویر اک برق تجلی نکلی 

روبرو ان کی کبھی ذات نہ ھونے پائی

جاوید سرور

وہ اصلی ھے یا نقلی ھے ہم آزما کے دیکھیں گے 

محبت میں تیری سلفاس کھا کے ھم بھی دیکھیں گے 

رفیع نعمانی 

ذلیل وخوار ھیں مغرور ھوگئے ھم سب

قرآن پاک سے جو دور ھوگئے ھم سب 

ڈاکٹر نوشاد 

اسی لمحے نے کبھی بخشا ھے قوموں کو  عروج 

زلف کھتا ھے کبھی  قاتل پیچاں کو یھی 

اشفاق ابراھیم 

پروگرام میں جہاں شہر کی معزز شخصیات کی موجودگی رہی وہیں نوگڑھ سے متصل مسلمانوں کی معروف بستی کونڈرا گرانٹ سے ادب نواز نوجوانوں اور بزرگوں کی ایک لمبی بھیڑ جمع رہی۔ آخر میں ڈاکٹر نیاز اعظمی کے صدارتی خطبہ اور مشاعرہ کے روح رواں جناب نوراللہ  خان کے کلمات تشکر کے بعد یہ تاریخی مشاعرہ بحسن وخوبی اختتام پذیر ہوا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز