Live Results Assembly Elections 2018

مسلم دانشوروں نے فلسطین کے مسئلہ پر مرکزی حکومت پر شدید نکتہ چینی کی ، عیسائی برادری بھی آئی سامنے

جہاں ایک طرف مسلم دانشوران فلسطین کےمعاملہ میں مرکزی حکومت کی مبہم خارجہ پالیسی کولے کر اپنی شدید ناراضگی کا اظہار کررہے ہیں وہیں دوسری جانب عیسائی دانشوروں نے بھی اس مسئلہ پر مسلمانوں کے ساتھ اپنی یکجہتی کا اظہارکیا ہے۔

Dec 20, 2017 11:03 PM IST | Updated on: Dec 20, 2017 11:03 PM IST

الہ آباد : مشرق وسطیٰ اور فلسطین کے مسئلے پرمسلم اورعیسائی دانشوروں میں کافی ہم آہنگی پائی جا تی ہے۔ جہاں ایک طرف مسلم دانشوران فلسطین کےمعاملہ میں مرکزی حکومت کی مبہم خارجہ پالیسی کولے کر اپنی شدید ناراضگی کا اظہار کررہے ہیں وہیں دوسری جانب عیسائی دانشوروں نے بھی اس مسئلہ پر مسلمانوں کے ساتھ اپنی یکجہتی کا اظہارکیا ہے۔

یروشلم کو اسرایئل کی راجدھانی تسلیم کرنے کے امریکی فیصلہ نے پوری مسلم دنیا کو ناراض کر دیا ہے ۔ ملک کے مسلمان بھی امریکہ اس فیصلہ سے بے حد ناراض ہیں ۔ شیعہ سنی اتحاد کے لئے کام کرنے والی تنظیم عصر فاؤنڈیشن نے یروشلم کو راجدھانی تسلیم کرنے کے فیصلہ پر اپنے سخت ردعمل کا اظہار کیا ۔ تنظیم کے صدرشوکت عابدی کا کہنا ہے کہ فلسطین کے مسئلہ پر مرکزی حکومت کو اپنی خارجہ پالیسی واضح کرنی چاہئے ۔

مسلم دانشوروں نے فلسطین کے مسئلہ پر مرکزی حکومت پر شدید نکتہ چینی کی ، عیسائی برادری بھی آئی سامنے

مسلمانوں کے اس موقف کی حمایت ملک کی دوسری اقلیت یعنی عیسائی برادری نے بھی کی ہے۔عیسائی برادری کا کہنا ہےکہ انسانی حقوق سے وابستہ مسئلہ کو تمام مذاہب کے افراد کو مل کر حل کرنے کی ضرورت ہے ۔

مسلم دانشوروں کے مطابق فلسطین کے تعلق سے ہندوستان کی پالیسی ہمیشہ سے فلسطینیوں کے حق میں رہی ہے ۔ لہذا اس معاملہ میں حکومت کو اپنی خارجہ پالیسی واضح کرنی چاہئے۔ جبکہ عیسائی دانشوروں کا کہنا ہے کہ مذہبی شدت پسندی کو ختم کرنے کے لئے مذاہب کے درمیان رشتوں کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے ۔ تاکہ عالمی سطح پر فلسطینی کاز کو مضبوطی مل سکے۔

Loading...

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز