میانمار میں بے گناہ لوگوں کے قتل عام پر ہندوستان کی خاموشی پر تشویش کا اظہار

Sep 09, 2017 08:55 PM IST | Updated on: Sep 09, 2017 08:55 PM IST

لکھنؤ۔ میانمار میں بے گناہ لوگوں کا خون بہایا جا رہا ہے۔ ان کے ساتھ جانوروں سے بد تر سلوک کیا جارہا ہے اور تمام ممالک وتنظیمیں خاموش تماشائی بنی ہوئی ہیں۔ اقوام متحدہ کی جانب سے بھی کوئی ایسی پیش رفت نہیں کی گئی ہے جس سے ظلم کے اس غیر انسانی عمل کو روکا جا سکے۔ امن پسند لوگ اب حکومت ہندوستان کی خاموشی پر کھل کر بول رہے ہیں ۔

خون سے تاریخیں ہمیشہ لکھی گئی ہیں لیکن ایسا کبھی نہیں ہوا جب بے گناہوں کے خون کی ندیاں اس طرح بہائی گئی ہوں جیسا میانمار میں کیا جارہا ہے۔ یہ قتل وغارت گری نہیں بلکہ نسل کشی ہے جس کی نظیر ملنا مشکل ہے اورعجیب بات یہ ہے کہ اقوام متحدہ نے ابھی تک کوئی ایسا قدم نہیں اٹھایا ہے جس سے ظلم کے اس سلسلے کو روکا جا سکے۔

میانمار میں بے گناہ لوگوں کے قتل عام پر ہندوستان کی خاموشی پر تشویش کا اظہار

مولانا شباحت حسین رضوی

بات چاہے عرب  کی ہو یا  دوسرے ممالک  کی ۔ مصلحت آمیزخاموشی نے دنیا کے امن پسند لوگوں کو بہت کچھ سوچنے پرمجبور کردیا ہے ۔ انتہا تو یہ ہے کہ امن کے لئے نوبل انعام حاصل کرنے والی برما کی سوشل ایکٹیوسٹ کی زبان بھی گنگ ہوگئی ہے۔ مجبور و بے بس لوگ آواز احتجاج  بلند کررہے ہیں ۔ مظاہرے ہو رہے ہیں لیکن کوئی سننے والا نہیں ۔ ان آوازوں کا ابھی تک حکومتوں پرکوئی اثر  نہیں ہوا ہے ۔

سوشل میڈیا پر جس طرح کی تصویریں اور تحریری مواد فراہم کیا جا رہا ہے اس سے بھی امن پسند لوگوں کی بے چینی بڑھی ہے۔ اس نسل کشی کے خلاف کچھ ممالک کے عوام ضرور آواز بلند کررہے ہیں لیکن حکومتیں خاموش ہیں اور یہ خاموشی کس بات کا پیش خیمہ ہے یہ بھی خوب سمجھ  میں آ رہا ہے ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز